لاہور کے علاقے اچھرہ میں اپنے ہی 3 بچوں کو چھری سے ذبح کرنے والی ماں سے تفتیش میں ایک شرمناک انکشاف سامنے آیا ہے۔ تہرے قتل کی لرزہ خیزواردات پر اہل علاقہ میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
تفصیلات کے مطابق عدالت نے لاہور میں 3 بچوں کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزمہ کو 5 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمہ نے کوشش کی کہ قتل کا الزام سسرالیوں پر عائد کردے، تاہم ملزمہ کے بیان میں تضادات کی بنیاد پر پولیس نے ملزمہ کے خلاف کیس قائم کیا۔
تفتیش کاروں کے مطابق ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ملزمہ اعتماد کا مظاہرہ کرتی ہے اور جائے واردات پر اپنا بلڈ پریشر کم ہوجانے کا بہانہ بناتے ہوئے کہتی ہے کہ رات کے وقت بھی بلڈ پریشر گر گیا تھا اور ڈرپ لگوائی تھی۔ بچے زندہ تھے جو گھر کو تالہ لگا کر باہر گئے تھے۔
ملزمہ کے بے بنیاد اور غیر منطقی بیان نے بچوں کو قتل کرنے والی ماں کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ ملزمہ کا کہنا تھا کہ گھر میں کوئی نہیں آیا، یہ نہیں معلوم کہ بچے کیسے قتل ہوئے؟پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کی ٹال مٹول زیادہ دیر تک نہیں چلی اور جلد ہی اس نے اعترافِ جرم کرلیا۔
تفتیش کے دوران سب سے شرمناک انکشاف اس وقت سامنے آیا جب ملزمہ نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر رمضان سے طلاق لے کر جھنگ کے ایک لڑکے سے شادی کرنے کی خواہش مند تھی جس کا نام شہریار ہے۔ دونوں روزانہ فون پر بات کرتے تھے۔ موبائل ایپ کے ذریعے بھی پیسے منگوایا کرتی تھی۔
ملزمہ اور شہریار کی شادی میں بچے سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں جس سے پولیس کو وجہ قتل مل گئی جبکہ آلہ قتل پہلے ہی برآمد کرلیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سی ڈی آر سے بھی حقائق سامنے آگئے ہیں۔ ملزمہ کو 5روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا تھا، جس سے مزید تفتیش جاری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








