مجرم بیٹے کی قانون پسند ماں، انسانیت اور تربیت کی ایک دل چھو لینے والی مثال

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین شاٹ)

ڈسٹرکٹ جیل ملیر سے قیدیوں کے فرار کے سنسنی خیز واقعے میں جہاں گولیاں چلیں، سائرن بجے اور افراتفری کا عالم رہا، وہیں انسانیت، اصول اور تربیت کی ایک دل چھو لینے والی مثال بھی سامنے آئی۔

یہ وہ لمحہ تھا جب جرم کے شور میں ضمیر کی صدا گونجی، اور ایک ماں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ سچائی کا دامن تھامنے کے لیے حوصلہ اور کردار کی قوت درکار ہوتی ہے۔

گزشتہ رات فرار ہونے والے قیدیوں میں شامل ایک نوجوان جب گھر پہنچا تو اُس کی ماں، جو خود ایک بیوہ اور محنت کش خاتون ہیں، نے ایسا قدم اٹھایا جو معاشرے کے لیے سبق اور مثال بن گیا۔

اس عظیم ماں نے بیٹے کو نہ صرف سمجھایا بلکہ اُسے خود لے جا کر پولیس کے حوالے کر دیا۔

عینی شاہدین کے مطابق، جب وہ خاتون اپنے بیٹے کو لے کر جیل کے باہر پہنچی، تو ہاتھ جوڑ کر اہلکاروں سے التجا کرنے لگی کہ میرے بیٹے سے غلطی ہوئی ہے، میں خود اسے لائی ہوں، مہربانی کرنا، اسے کچھ نہ کہنا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس قانون پسند ماں نے کہاکہ میں بیوہ ہوں، محنت مزدوری سے گھر چلاتی ہوں۔ یہ میرا بڑا بیٹا ہے، مگر یہ مجرم نہیں۔ اسے صرف اس کے ایک دوست کی وجہ سے گرفتار کیا گیا، جس کا موبائل چوری میں ملوث ہونا ثابت ہوا۔ اسی موبائل میں میرے بیٹے کی تصویر تھی جس بنیاد پر اسے بھی پکڑ لیا گیا۔ وہ گزشتہ 6 ماہ سے جیل میں ہے، میرا بیٹا بے گناہ ہے۔

خاتون نے حکام سے اپیل کی کہ اس کیس کو دیانتداری سے دیکھا جائے، اور اگر اس کا بیٹا واقعی بے گناہ ہے تو اسے رہا کیا جائے۔”یہی میرا سہارا ہے، کمانے والا ہے۔ انصاف کی امید لے کر بیٹے کو آپ کے حوالے کیا ہے۔

یہ منظر نہ صرف جذباتی تھا بلکہ معاشرتی اقدار، ایمانداری، اور سچے کردار کی زندہ تصویر تھا۔ سوشل میڈیا پر اس ماں کے کردار کو بھرپور سراہا جا رہا ہے۔ ہزاروں صارفین نے اسے ایمانداری، قربانی اور تربیت کی روشن مثال قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر تبصروں میں کہا گیا کہ ایسی مائیں معاشرے کا مان اور وقار ہوتی ہیں۔ جو جرم پر پردہ ڈالنے کی بجائے، قانون کا ساتھ دیتی ہیں۔ ایسے کرداروں کو ریاستی سطح پر سراہا جانا چاہیے۔

صارفین نے وکلاء اور فلاحی اداروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ آگے آئیں اور اس ماں کی قانونی معاونت کریں تاکہ اگر اس کا بیٹا واقعی بے گناہ ہے تو اسے انصاف ملے۔

یہ ماں ہمیں سکھاتی ہے کہ محبت صرف ساتھ دینے کا نام نہیں، بلکہ سچ کا ساتھ دینے کا نام ہے — چاہے وہ فیصلہ جتنا بھی مشکل ہو۔ یہ کردار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ معاشرہ صرف قانون سے نہیں، ایسے ضمیر زندہ لوگوں سے بنتا ہے۔

ہم اس باہمت ماں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جس نے ماں ہونے کا سب سے روشن، باوقار اور اصول پسند چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔

Related Posts