سال 1971ء کی جنگ میں دشمن کے چھکے چڑانے والے قوم کے بے مثال سپوت لارنس نائیک محمد محفوظ شہید کا 54واں یومِ شہادت آج منایا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے جانباز سپاہی محمد محفوظ شہید نے ضلع راولپنڈی کے گاؤں پنڈ ملکاں میں25 اکتوبر 1944ء کو جنم لیا۔آپ 25 اکتوبر 1962ء کو فوج کا حصہ بنے اور 1971ء کی جنگ میں وہ کردار ادا کیا جسے قوم کبھی نہیں بھولے گی۔
جنگ کے دوران اصل کارکردگی وہ ہے جس کا دشمن بھی اعتراف کرے۔ لارنس نائیک محمد محفوظ نے دشمن کے خلاف شجاعت کی وہ مثال قائم کی کہ بھارتی کمانڈر بھی کھل کر اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوگئے۔
دشمن کے فوجیوں کی تعداد پاک فوج کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی۔ ایک موقعے پر دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے لارنس نائیک محمد محفوظ نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور دشمن کے مورچے پر جھپٹ پڑے۔ دشمن کی فائرنگ سے پہلے کیے گئے حملوں سے لارنس نائیک بہت زخمی ہوچکے تھے، مشین گن بھی ہاتھ سے چھوٹ گئی۔
اس کے باوجود دورانِ جنگ قوم کے بہادر جوان نے ہمت نہ ہاری اور دشمن کی مشین گنر کو دبوچ لیا۔ ایک سپاہی نے ان پر فائرنگ شروع کردی جس پر انہوں نے دشمن کو قابو میں لے کر اسے بھی واصل جہنم کیا، تاہم اگلے سپاہی نے سنگین سے مسلسل وار کرکے انہیں شہید کردیا۔
تاہم بعد از شہادت بھی لارنس نائیک محمد محفوظ کے ہاتھوں میں دشمن کی گردن موجود رہی جو ان کی شجاعت اور بے مثال بہادری کا ثبوت تھا۔ آپ کی خدمات کے اعتراف میں حکومت نےبعد از شہادت نشانِ حیدر سے نوازا جبکہ گاؤں پنڈ ملکاں کو محفوظ آباد کا نام دیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








