سپریم کورٹ میں جونیئر ججز کی تعیناتی کیخلاف وکلا کی ہڑتال،کیسزکی سماعت نہ ہوسکی

تازہ ترین

تازہ ترین

Lawyers boycott court proceedings across Pakistan

کراچی:سپریم کورٹ میں جونیئر ججز کی تعیناتی کے معاملے پرپاکستان بار کونسل کی اپیل پر عدالتوں میں پھر تالہ بندی کی گئی اوروکلا نے ہڑتال کردی جس کے باعث سندھ ہائیکورٹ میں سائلین رل گئے۔

جمعرات کووکلا رہنماؤں نے سندھ ہائی کورٹ کے تمام داخلی راستے بند کردیئے جبکہ سائلین اور سرکاری وکلا کو بھی دروازے پر روک دیا گیا۔ عدالتوں میں پیش ہونے کے خواہش مند وکلا کواندر نہیں جانے دیاگیا،وکلا، سائلین کی عدم پیشی پر مقدمات کی سماعت متاثر رہی۔

عدالتی راہداریوں میں سناٹا رہا عدالتی عملہ وکلا اور سائلین کے نام پکارتا رہا۔ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد وکلا کی یہ پانچویں ہڑتال ہے۔ سندھ ہائیکورٹ بار عہدیدران نے ججز سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ وکلا نے کہا کہ ہڑتال ہے، ججز تعاون کریں، فوری کیسز چیمبرز میں سن لیں۔

جسٹس اقبال محمد کلہوڑو اور جسٹس محمد سلیم جیسر نے فوری طور پر چیمبرز میں جانے سے انکار کردیاجبکہ جسٹس محمد اقبال محمد کلہوڑو نے ریمارکس دیئے پیش نہ ہونے والے وکلا کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے۔

مزید پڑھیں:جرائم کی سرپرستی، کراچی پولیس کے 30افسران کی بطور ایس ایچ او تعیناتی پر پابندی عائد

جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ سے ہمیں کوئی ہدایت نہیں ملی۔ کم از کم جو کیسز لگیں ہیں ان میں تاریخیں تو ہونے دیں۔ جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیئے جو وکیل پیش نہ ہونا چاہیے نہ ہو۔ وکلا، سائلین کی عدم پیشی پر بیشتر کیسز کی سماعت ملتوی کردی گئی۔

ادھر ماتحت عدالتوں میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔ ہڑتال کے باعث جیلوں سے قیدیوں کو بھی نہیں لایا گیا۔عدالتی راہداری میں بھی سناٹا رہا اورسیکڑوں مقدمات کی سماعت کارروائی کے بغیر ملتوی کردی گئی۔

سندھ ہائی کورٹ کی سینارٹی کی فہرست میں 5ویں نمبر کے جج محمد علی مظہر کو سپریم کورٹ کا مستقل جج مقرر کرنے کے فیصلے کے خلاف پاکستان بار کونسل کی جانب سے پچھلے ماہ احتجاج بھی کیا گیا تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سال 2022 کے پہلے 8 مہنیوں میں سپریم کورٹ کے 7 ججز ریٹائر ہو رہے ہیں۔

Related Posts