کارونجھر پہاڑ کی کٹائی پر وکلاء بھپر گئے! وزیر اعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ؛ جانیں قیمتی پہاڑی سلسلے کا معاملہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

کراچی میں کارونجھر پہاڑ کی کٹائی کے خلاف وکلاء کا شدید احتجاج جاری ہے۔ وکلاء کی ریلی ریڈ زون میں داخل ہو گئی ہے اور انہوں نے سکیورٹی کنٹینرز پر چڑھ کر شدید نعرے بازی بھی کی ۔ احتجاج وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب پہنچ چکا ہے جہاں سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔

سندھ اور کراچی بار کے وکلاء مطالبہ کر رہے ہیں کہ کارونجھر پہاڑ جیسے قدیم اور مقدس قدرتی ورثے کا تحفظ کیا جائے اور سندھ حکومت سپریم کورٹ میں دائر اپنی اپیل واپس لے۔

اس کیس کی سماعت آج مقرر ہے لیکن سندھ حکومت کو قانونی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ان کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین احمد نے کیس میں پیش ہونے سے معذرت کر لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کیس اب وفاقی آئینی عدالت میں ہے جہاں ججز کی تقرری کے حوالے سے کئی اعتراضات ہیں، اس لیے وہ حکومت کی نمائندگی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے سندھ حکومت سے کہا ہے کہ کوئی دوسرا وکیل مقرر کیا جائے اور فیس کی واپسی کا طریقہ بتایا جائے۔

کارونجھر پہاڑ سندھ کے تھرپارکر ضلع میں واقع ہے جو ہندوؤں کے لیے مذہبی لحاظ سے بہت اہم ہے۔ یہ پہاڑ تقریباً 20 سے 25 کلومیٹر لمبا اور 300 سے 400 فٹ بلند ہے۔ یہاں قدیم جین اور ہندو مندر، غار، اور صدیوں پرانی پتھروں پر کندہ نقوش موجود ہیں۔

کٹائی کا مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب سندھ حکومت نے 2024-25 میں یہاں گرینائٹ نکالنے کے لیے نجی کمپنیوں کو لیز دی، جس کے تحت پہاڑ کی کٹائی اور دھماکے کرنے کی اجازت دی گئی تاکہ قیمتی پتھر نکال کر صوبے کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا جا سکے۔

مقامی عوام اور ہندو برادری اس کٹائی کی شدید مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ پہاڑ ان کا مقدس مقام ہے جہاں درگاہیں، مندر اور تاریخی آثار موجود ہیں جو کٹائی سے تباہ ہو جائیں گے۔

ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کارونجھر پہاڑ تھر کا واحد پہاڑی سلسلہ ہے جو بارش کا پانی جمع کرتا ہے اس کی کٹائی سے زیر زمین پانی ختم ہو جائے گا جبکہ جنگلی حیات متاثر ہوگی اور خشک سالی میں اضافہ ہو گا۔

علاقے کے رہائشی بھی فکر مند ہیں کیونکہ یہاں کا قدرتی ماحول اور جنگلی جانور جیسے مور، ہرن اور دیگر محفوظ ہیں جبکہسیاحت بھی بڑھ رہی ہے لیکن کٹائی سے یہ سب ختم ہو جائے گا۔

عوامی نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہاں موجود ہزاروں سال پرانے پتھروں پر کندہ نقوش پاکستان کی قدیم تاریخ کا حصہ ہیں جو کٹائی سے تباہ ہو جائیں گے اس لیے مقامی لوگ اور ماہرین اس کٹائی کو روکنے کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں۔

Related Posts