بھارتی ریاست گجرات کے شہر بھاونگر میں ایک اسکول کی یوم آزادی کی تقریب کے دوران پیش کیے گئے ڈرامے نے مسلم برادری میں شدید ناراضی پیدا کر دی۔ اس ڈرامے میں کم عمر مسلم بچیوں کو برقع پہن کر دہشت گردوں کے طور پر دکھایا گیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیلنے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
مسلم رہنماؤں نے اس عمل کو اسلاموفوبیا پھیلانے اور مسلم برادری کو بدنام کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیا۔ ایک مقامی کارکن نے کہا کہ یہ ڈرامہ نفرت پھیلانے کا ذریعہ بنا جبکہ یوم آزادی پر اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام دینا چاہیے تھا۔
سماجی رہنماؤں اور والدین نے اسکولوں کو نفرت کے پلیٹ فارم بنانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ ایک پروفیسر نے کہا کہ اگر تعلیمی اداروں میں تعصب کو فروغ دیا جائے گا تو نئی نسل کیا سیکھے گی؟ وکلاء نے بھی اسے مسلم برادری کے لیے عدم تحفظ کا باعث قرار دیا اور معاشرے میں پائے جانے والے دہرے معیار پر سوال اٹھایا۔
مقامی حکام نے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے لیکن پولیس کی جانب سے کوئی ٹھوس بیان سامنے نہیں آیا۔ مسلم تنظیموں نے اسکول انتظامیہ سے جواب طلبی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک طالب علم رہنما نے کہا کہ یہ واقعہ گجرات کے امن پسند ورثے کی توہین ہے جو کبھی گاندھی کے پیغام امن کی علامت تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








