کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے کارکنوں اور حمایتیوں نے آج (پیر) کے روز سابق صدر اور پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی 66 ویں سالگرہ سادگی کے ساتھ منائی۔
پاکستان کی تاریخ میں زرداری واحد صدر ہیں،جواپنا صدارتی دور پورا کرنے میں کامیاب رہے۔ ان کے دور حکومت کے دوران پاکستان میں ہنگامہ آرائی بھی دیکھنے کو ملی، مگر پھر بھی آصف علی زرداری اپنا مقررہ وقت پورا کرنے میں کامیاب رہے۔
آصف علی زرداری کی 66ویں سالگرہ کے موقع پر ان کے صدر پاکستان بننے سے پہلے کے ان کی زندگی میں ہوئے کچھ خاص واقعات پر نظر ڈالتے ہیں۔

آصف زرداری پہلی بار اس وقت نمایاں، مشہور ہوئے جب اُنہوں نے بے نظیر بھٹو سے شادی کی تھی۔



بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نے شادی کے بعد راجیو اور سونیا گاندھی سے ملاقات کی۔ زرداری کو پاور کوریڈورز میں ایک اعلی زندگی سے تعارف کرایا گیا۔ جہاں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو تھیں، وہیں پہلا جنٹلمین، آصف علی زرداری بھی موجود تھا۔

وزیر اعظم کے بطور بے نظیر بھٹو کی پہلی مدت ملازمت کے خاتمے کے بعد، زرداری پر بدعنوانی کا مقدمہ درج کیا گیا اور 1990 میں پہلی بار انہیں جیل منتقل کردیا گیا۔

آٹھ سال قید کے بعد، آخر کار 2005 میں آصف علی زرداری کو رہائی نصیب ہوگئی، رہائی کے بعد وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ دبئی میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے لگے۔

پاکستانیوں کوپہلی مرتبہ سیاستدان کی حیثیت سے زرداری کی ذہانت کے بارے میں اُس وقت علم ہوا، جب اُنہوں نے اپنی اہلیہ کے جنازے کے موقع پر ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگا کر پیپلز پارٹی کے ناراض حامیوں کو روک لیا۔ تب سے یہ نعرہ زرداری کی شناخت بن گیا ہے۔

2007 کے آخر میں بینظیر بھٹو کی موت کے بعد پیپلز پارٹی نے شہریوں اور یہاں تک اپنے سیاسی حریفوں کی ہمدردی حاصل کی۔ اس وقت کے صدر پرویز مشرف کے استعفیٰ کے بعد آصف علی زرداری نے صدر پاکستان کا عہدہ سنبھالا تھا۔

آصف علی زرداری نیویارک شہر میں 13 نومبر، 2008 کو اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں کلچر آف پیس اجلاس میں موجود ہیں۔

آصف زرداری نے امریکا کے سرکاری کے دورے کے موقع پر امریکی صدر باراک اوباما سے بھی ملاقات کی۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








