ڈونلڈ ٹرمپ بھی عمران خان کے نقش قدم پر چل نکلے

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو روئٹرز

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکا کا عمران خان کہا جاتا ہے، عمران خان پر اپنی سیاست کو اسلامی ٹچ دینے کیلئے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، اب امریکی عمران خان یعنی ٹرمپ بھی اپنی سیاست کو مذہبی ٹچ دیتے نظر آ رہے ہیں۔

امریکی چینل فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ امریکا ٹوٹا ہوا ہے اور اس کا حوصلہ پست ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا نے انھیں موت سے اس لیے بچایا تا کہ وہ ملک کے حالات ٹھیک کر سکیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو 13 جولائی کو پنسلوینیا میں ایک انتخابی اجتماع کے دوران میں ایک مسلح شخص نے گولی کا نشانہ بنایا تھا۔ اس قاتلانہ حملے میں ٹرمپ کا کان زخمی ہوا تھا جب کہ مجمع میں شریک ایک شہری ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ “ہمارا ملک انتہائی بیمار ہے اور اس کے حوصلے نہایت پست ہیں۔ شاید یہ ہی میرے محفوظ رہ جانے کی وجہ ہو۔ میں نہیں جانتا مگر بہت سے لوگوں نے ایسا کہا ہے”۔

سابق صدر نے اپنے سیاسی بیان کو مذہبی ٹچ دیتے ہوئے کہا کہ “میں سمجھتا ہوں کہ آپ کا خدا پر ایمان بڑھ جاتا ہے کیوں کہ جب میں ماہرین سے بات کرتا ہوں تو وہ کہتے ہیں کہ اتنی (کم) مسافت سے نشانہ چوک جانا بہت مشکل ہے … میرے خیال میں وہ (حملہ آور) جلدی میں تھا کیوں کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ (چھت پر) ایک مسلح شخص موجود ہے”۔

ٹرمپ نے سیکرٹ سروس کے ارکان کو سراہا جو اس روز ان کی حفاظت کے لیے یک دم حرکت میں آئے۔ سابق صدر نے کہا وہ “بہت دلیر” تھے اور “سیکنڈوں میں” کود کر مجھے ڈھانپ لیا۔

ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ جہاں حملہ آور موجود تھا وہاں کسی کو موجود ہونا چاہیے تھے۔

سابق صدر پر قاتلانہ حملے کے بعد یہ سوال گردش میں ہے کہ حملہ آور ٹرمپ پر فائرنگ کرنے میں کس طرح کامیاب ہو گیا۔

کئی افراد نے سیکرٹ سروس کی ڈائریکٹر کیمبرلی شٹل سے سبک دوش ہونے کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئیں۔

Related Posts