اسٹیٹ بینک پاکستان اور ورلڈ بینک کے نجی شعبے سے متعلق ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے درمیان ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے جس کا مقصد پاکستان میں مقامی کرنسی یعنی پاکستانی روپے میں قرضوں کی فراہمی کو بڑھانا ہے تاکہ نجی شعبے کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ شراکت داری آئی ایس ڈی اے معاہدے کے تحت کی گئی ہے جس کے ذریعے آئی ایف سی مقامی کرنسی میں سرمایہ کاری کو فروغ دے سکے گا اور کرنسی کے اتار چڑھاؤ سے پیدا ہونے والے مالی خطرات سے بہتر انداز میں نمٹ سکے گا۔
معاہدے کے تحت پاکستان کے اندر موجود نجی کمپنیاں جو اپنی آمدن روپے میں حاصل کرتی ہیں لیکن اکثر ڈالر میں قرض لیتی ہیں اب روپے میں قرض لے کر ان خطرات سے بچ سکیں گی۔ اس اقدام سے نہ صرف سرمایہ کاروں کو سہولت ملے گی بلکہ معیشت میں استحکام اور ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط اور پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے نجی شعبے کی مضبوطی بہت ضروری ہے اور آئی ایف سی کے ساتھ یہ شراکت داری اسی سمت ایک مثبت قدم ہے۔
آئی ایف سی کے اعلیٰ عہدیدار جان گینڈولفو نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے کرنسی کا غیر متوازن نظام ایک بڑا چیلنج ہے اور مقامی کرنسی میں قرض کی فراہمی سے نہ صرف خطرات کم ہوں گے بلکہ معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایف سی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں جدید مالیاتی طریقے اپنا کر مقامی سطح پر مالیاتی سہولیات کی فراہمی کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
آئی ایف سی کیا ہے؟
انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) ورلڈ بینک گروپ کا حصہ ہے اور یہ دنیا کا سب سے بڑا ادارہ ہے جو ترقی پذیر ممالک میں نجی شعبے کی ترقی پر کام کرتا ہے۔ یہ ادارہ 100 سے زائد ممالک میں فعال ہے اور مالی سال 2025 میں تقریباً 71.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے نجی کمپنیوں اور مالی اداروں کے لیے متعارف کروائے گا تاکہ غربت کے خاتمے اور بہتر زندگی کی طرف پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








