عیدالاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی شہر میں قربانی کے جانوروں کی منڈیاں لگنا شروع ہوجاتی ہیں اور اندرون سندھ اور پنجاب سے بڑی تعداد میں قربانی کے جانور شہر میں لائے جاتے ہیں۔
آج کل مویشی منڈیوں میں شہریوں کی بڑی تعداد عید الاضحیٰ کیلئے جانور کی خریداری میں مصروف ہے، ایسے میں اکثریت کہ ذہنوں میں یہی سوال ہے کہ آیا وہ جو جانور خرید رہے ہیں وہ لمپی بیماری میں مبتلا تو نہیں ہوگا؟ آیئے دیکھتے ہیں کہ یہ بیماری ہے کیا اور عید پر جانور کی خریداری کیسے کرسکتے ہیں؟
لمپی اسکن وائرس کیا ہوتا ہے؟
سائنسدانون کے مطابق لمپی سکن وائرس نامی بیماری گزشتہ ایک صدی سے جانوروں میں تشخیص ہورہی ہے۔
سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کے شعبے وٹرنری کے پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ آریجو نے کہا کہ جس طرح انسانوں کو چیچک یا چکن پاکس کی بیماری ہوتی ہے یا جانوروں میں ’شیپ پاکس‘ اور ’گوٹ پاکس‘ بیماری ملتی ہے، یہ بھی اسی طرح کی ایک بیماری ہے جس میں جانور کے جسم پر دانے نمودار ہوتے ہیں جو جسم کے اندر پھیلتے ہیں اور زبان پر بھی آجاتے ہیں۔
جس کے بعد وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان دانوں میں پیپ یعنی کہ پس بھرنی شروع ہوجاتی ہے اور جانوروں کو اس قدر تکلیف ہوتی ہے کہ وہ تکلیف کی شدت کی وجہ سے بیٹھ بھی نہیں سکتے۔
ڈاکٹر آریجو کا کہنا تھا کہ سنہ 1929 میں یہ بیماری پہلی بار افریقہ کے جانوروں میں تشخیص ہوئی تھی بعدازاں انڈیا اور سری لنکا میں بھی اس بیماری کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔
یہ بیماری پاکستان میں کیسے پھیلی؟
یہ بیماری ایک جانور سے دوسرے جانور میں باآسانی پھیل جاتی ہے، جب بیمار جانور کے زخم پر کوئی مچھر یا مکھی بھی اُس جانور کے دانوں کے زخم پر بیٹھتی ہے تو وہ اُس وائرس کو ساتھ لے کر دوسرے جانور پر بیٹھے گی تو بھی وہ وائرس کو وہاں منتقل کردے گی۔
لمپی اسکن بیماری کے پھیلاؤ کے بارے میں محکمہ لائیو سٹاک پنجاب کے فوکل پرسن ڈاکٹر رحمان نے یہ دعویٰ کیا کہ ہماری تحقیق کے مطابق یہ بیماری پاکستان میں انڈیا سے آئی ہے جبکہ پنجاب میں یہ بیماری سندھ سے پہنچی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مارچ 2022 میں پنجاب میں پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا اور اب تک پنجاب میں متاثرہ جانوروں کی کل تعداد تقریباً گیارہ ہزار ہے اور مرنے والے جانور لگ بھگ پچاس ہیں۔
محکمہ لائیو اسٹاک نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے جانوروں کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہےجبکہ اب تک محکمہ لائیو سٹاک لاکھوں کی تعداد میں جانوروں کو ویکسینیشن لگا چکا ہے اور اب تک یہ عمل جاری ہے۔
بیماری کی وجہ سے بیوپاری پریشان
اس سال عید الاضحیٰ پر بیوپاریوں کی اکثریت جانوروں کی فروخت کو لے کر پریشان ہے، اکثریت یہی کہہ رہی ہے کہ جتنا مال لے کر آئے تھے اُس میں سے ابھی تک آدھا بھی فروخت نہیں ہوا ہے جبکہ عیدالاضحیٰ میں صرف 6 دن رہ گئے ہیں۔
بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس حوالےسے اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ اگر ایسا نہیں کیا تو ہمارا بہت زیادہ نقصان ہوجائے گا۔ ایک بیوپاری کے مطابق ہم ہر سال جو بھی جانور مویشی منڈی میں بیچنے کیلئے لاتے ہیں کوشش کرتے ہیں کہ مال کو پورافروخت کرنے کے بعد واپس جائیں مگر اس سال جو صورتحال ہے ایسے میں لگ رہا ہے کہ جانوروں کی فروخت پر بہت زیادہ اثر پڑے گا۔
خریدار کیوں پریشان؟
عیدالاضحیٰ ایک ایسا موقع ہوتا ہے جب ایسے افراد بھی قربانی کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن کی مالی حالت بہت زیادہ خراب ہوتی ہے، ہر ایک کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس مذہبی فریضے کو سر انجام دے اور عید کی خوشیوں سے لطف اندوز ہوئے۔
اس عیدالاضحیٰ پرشہریوں کی بڑی تعداد قربانی کے جانور کو لے کر پریشان ہے، اُن میں سے اکثریت کہ دل میں یہی خوف ہے کہ آیا وہ جو جانور خرید رہے ہیں اُس کا گوشت کھانے کے قابل بھی ہوگا یا نہیں؟ کہیں اُس کو کھانے کے بعد ہم بیمار تو نہیں ہوجائیں گے۔
جانور کی خریداری کیسے کریں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کوئی بھی جانور لمپی بیماری سے ٹھیک ہوجاتا ہے تو وہ سو فیصد قابلِ خرید ہوتا ہے اور اُس کا گوشت بھی قابل استعمال ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے جانور جن کو یہ بیماری ہوتی ہے وہ صاف اُن جانوروں کے جسموں پر نظر آجاتی ہے، اس لئے جانور کی خریداری کرتے وقت اُس کو اچھی طرح سے تسلی اور دیکھ بھال کرکے خریدیں۔
اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوشش کریں کہ عیدالاضحیٰ پر گوشت کو اچھی طرح سے دھو کر اور پکا کر کھائیں کیونکہ اِس سے بیمار ہونے کے امکانات کافی حد تک ختم ہوجاتے ہیں۔