بڑا سیلز ٹیکس فراڈ سامنے آگیا! وزیراعظم نے فارنسک آڈٹ کا حکم دے دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

FBR announces special facilitation for manual tax filers
FILE PHOTO

وزیرِاعظم شہباز شریف نے گزشتہ برسوں میں ہونے والے سیلز ٹیکس فراڈ پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور تین ہفتوں کے اندر ایک جامع رپورٹ طلب کر لی ہے۔ یہ ہدایات انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات کے جائزے کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی ہیں۔

اجلاس میں ایف بی آر کے حکام نے وزیراعظم کو واشنگٹن میں ہونے والی سالانہ ورلڈ بینک کانفرنس میں ٹیکس ادارے کی شرکت کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیرِاعظم نے ایف بی آر ٹیم کی جانب سے ٹیکس اصلاحات پر عالمی کانفرنس میں پیش کی گئی کیس اسٹڈی کی تعریف کی۔

وزیراعظم کو ایف بی آر اور پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ میں جاری اصلاحاتی اقدامات کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اصلاحات میں آڈٹ والٹس، ڈیٹا بیس پروٹیکشن والز، سیکیورٹی آپریشنز سینٹر، مسلسل ڈیٹا بیس مانیٹرنگ اور دیگر محفوظ ڈیجیٹل اقدامات شامل ہیں۔ نئے سسٹم کے تحت اب جب بھی ڈیٹا میں تبدیلی کی جاتی ہے تو صارف کا آئی پی ایڈریس ریکارڈ ہو جاتا ہے جس سے ٹیکس فراڈ تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔

2018-19 سے جاری سیلز ٹیکس فراڈ کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے وزیراعظم کو اپنی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ فراڈ پی آر اے ایل کے پرانے سسٹم، نگرانی کی کمی اور ڈیٹا بیس کی کمزور سیکیورٹی کی وجہ سے ہوا۔

وزیرِاعظم نے ماضی میں ہونے والے فراڈ پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت دی کہ پی آر اے ایل کے سسٹم کا فارنسک آڈٹ ایک بین الاقوامی کنسلٹنسی فرم کے ذریعے کیا جائے۔

Related Posts