بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض حسین نے ملک بھر میں بحریہ ٹاؤن کی تمام سرگرمیاں بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بحریہ ٹاون کے سربراہ ملک ریاض نے اپنی فیس بک پوسٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران درجنوں اسٹاف ارکان کو گرفتار کیا گیا، کمپنی کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے، عملے کی گاڑیاں ضبط کی گئیں، جس کے باعث مالی لین دین مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ ان اقدامات کے باعث کمپنی اپنے ملازمین کو تنخواہیں دینے اور سروسز فراہم کرنے کے قابل نہیں رہی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت بحریہ ٹاؤن کی تمام ہاؤسنگ اسکیمز میں ترقیاتی سرگرمیاں بند ہو چکی ہیں، جبکہ اربوں روپے کی سرمایہ کاری اور کمرشل منصوبے التوا کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق کمیونٹیز میں بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے، جس پر وہ تمام رہائشیوں، اسٹیٹ ایجنٹس اور وابستہ کاروباری افراد سے معذرت خواہ ہیں۔
ملک ریاض سے منسوب بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر بین الاقوامی ثالثی (Arbitration) میں فیصلہ ان کے خلاف آتا ہے تو وہ ہر صورت مکمل ادائیگی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی پاکستان سے محبت رکھتے ہیں، ریاستی اداروں کا احترام کرتے ہیں اور ہمیشہ ملکی سلامتی کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








