معروف فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے لاہور میں حال ہی میں منعقد ہونے والے ایک متنازعہ پروگرام پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس تقریب میں ایسے افعال کیے گئے جو نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ مذہبی اور سماجی اقدار کے منافی تھے۔
تفصیلات کے مطابق یہ پروگرام اگست 2025 میں لاہور میں منعقد ہوا جس کی ویڈیوز ماریہ بی کو براہِ راست بعض بچوں نے بھیجیں۔
ڈیزائنر کے مطابق اس تقریب میں مختلف افراد نے غیر معمولی لباس زیب تن کرکے پرفارمنس دی جنہیں انہوں نے کھلی فحاشی اور شیطانی طرز عمل قرار دیا۔
ماریہ بی نے دعویٰ کیا کہ اس پروگرام کی اجازت مقامی انتظامیہ نے دی، جہاں بعض مرد فنکاروں نے خواتین کے روپ میں ڈریگ آرٹ پیش کیا۔
ان کے مطابق اس تقریب میں بعض نشانات اور علامتیں ایسی استعمال کی گئیں جنہیں انہوں نے شیطانی قرار دیاجیسے کہ الٹی اردو تحریر اور چہروں پر بنائی گئی تیسری آنکھ، جسے انہوں نے دجال سے تشبیہ دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے پروگراموں کو فن اور آرٹ کے نام پر فروغ دیا جا رہا ہے جو دراصل ہم جنس پرستی اور غیر اسلامی اقدار کو عام کرنے کی کوشش ہے۔
ماریہ بی نے حکومت کی ثقافتی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں کی اجازت دینا نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے اس موقع پر فلم جوئے لینڈ کی مثال بھی دی، جس پر اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے تھے لیکن اسے پنجاب میں نمائش کی اجازت ملی۔
ماریہ بی کا کہنا تھا کہ حکومت دراصل بیرونی دباؤ پر ایسے اقدامات کر رہی ہے جو پاکستانی معاشرے اور خاندانوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔
ماریہ بی نے والدین کو خبردار کیا کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور ایسے پروگراموں سے باخبر رہیں تاکہ وہ مغربی ایجنڈے کے زیرِ اثر نہ آئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ بھی اس موضوع پر آواز بلند کرتی رہیں گی اور معاشرتی اقدار کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








