وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چکوال میں نیشنل اسکول آف ایکسیلنس کا افتتاح کیا، اس موقع پر انہوں نے ہونہار اسکالرشپ اور لیپ ٹاپ بھی طلبہ میں تقسیم کیے۔ تقریب میں بڑی تعداد میں طلبہ، اساتذہ اور شہری شریک ہوئے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیلاب کی وجہ سے مصروفیات بڑھ گئی تھیں لیکن آج چکوال کے طلبہ کو ان کا حق دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چکوال کے طلبہ نے اپنے والدین کا نام روشن کیا ہے اور یہ ان کا حق ہے جو انہیں مل رہا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ گزشتہ برس تیس ہزار وظائف دیے گئے تھے جبکہ اس سال یہ تعداد بڑھا کر اسی ہزار کر دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کسی نے مشورہ دیا تھا کہ یہ تقریب راولپنڈی میں رکھی جائے، لیکن میرا ماننا ہے کہ چکوال بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنے دیگر شہر۔
انہوں نے کہا کہ جب ان کے والد کو مشکل وقت کا سامنا تھا تو انہوں نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور انہیں دو بار بلاوجہ جیل بھی جانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ذہین اور قابل طلبہ کے دروازے تک پہنچے۔
اب بلوچستان کی خواتین بھی اسکوٹیز چلائیں گی! حکومت کا الیکٹرک بائیکس اسکیم کا اعلان
مریم نواز نے اپنے سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پانامہ کے بعد ان کے والد نے کئی مشکلات کا سامنا کیا۔ انہوں نے 2011 میں سیاست میں قدم رکھا اور 2024 میں پہلا الیکشن لڑا حالانکہ ان کا سیاست میں آنے کا ارادہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ جب وہ وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوئیں تو صوبے میں جرائم کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ چکی تھی، تاہم انہوں نے اس پر قابو پایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب انہوں نے حلف اٹھایا تو صوبے میں امن و امان کی صورتحال نہایت سنگین تھی۔
انہوں نے اپنی جیل کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جون اور جولائی میں سیل تندور کی طرح جل رہا تھا اور وہ کبھی ایسی حالت میں نہیں رہیں کیونکہ گھر پر ہمیشہ سیاست کی گفتگو ہوتی تھی اور مشکل وقت میں کئی لوگ ان کے والد کو چھوڑ گئے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








