مریم سرکار کی نجکاری پالیسی نے پنجاب کے تین کروڑ بچوں کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگا دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی تصویر

ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آئندہ سال پنجاب میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد 3 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی، جس سے صوبے کے تعلیمی بحران میں مزید سنگینی پیدا ہو گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعداد 2025 میں 2 کروڑ 80 لاکھ تھی اور بڑھتی ہوئی غربت، بچوں کے ڈراپ آؤٹ اور اسکولوں کی نجکاری کے اثرات کی وجہ سے یہ مسلسل بڑھ رہی ہے۔

حکام کے مطابق اس سال سرکاری اسکولوں سے سب سے زیادہ طلبہ رخصت ہوئے ہیں۔ 14,000 سرکاری اسکولوں کی نجکاری کے بعد کئی خاندان فیس برداشت نہیں کر سکے، جس سے داخلوں میں نمایاں کمی آئی۔ ان اسکولوں میں سے 1,400 اسکول مالکان نے حکومت کو واپس کر دیے ہیں کیونکہ طلبہ کی تعداد، خاص طور پر لڑکیوں کی، تیزی سے کم ہو گئی تھی۔

تعلیمی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ مزید لڑکوں اور لڑکیوں کو چائلڈ لیبر میں دھکیل رہا ہے۔ بہت سے بچے ورکشاپس، ہوٹلوں اور مکینک کی دکانوں میں کام کرنے لگے ہیں اور اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پا رہے۔

آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر ملک نسیم کا کہنا ہے کہ غربت اور موجودہ تعلیمی پالیسیاں بچوں کو کلاس رومز سے دور اور سڑکوں پر دھکیل رہی ہیں۔

Related Posts