راولپنڈی، زمینوں پر قبضوں کے معاملے پر قتل عام معمول بن گیا

تازہ ترین

تازہ ترین

راولپنڈی، زمینوں پر قبضوں کے معاملے پر قتل عام معمول بن گیا
راولپنڈی، زمینوں پر قبضوں کے معاملے پر قتل عام معمول بن گیا

راولپنڈی:زمینوں کے قبضے کے معاملے پر قتل آئے روز کے معمول بن گئے، محکمہ مال اور پولیس کی پشت پناہی سے مافیا نے ریاست کے اندر ریاست قائم کر لی، چکری روڈ، اڈیالہ روڈ اور گردونواح کے علاقے میں قبضہ مافیا کا راج برقرار ہے،راولپنڈی کے ان علاقوں میں اسلحے کے ذخائر کی موجودگی انتظامیہ اور پولیس کی کاکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے آئے روز سرچ آپریشن صرف فوٹو سیشن کے لئے کرتے ہیں، سرچ آپریشن کا مقصد اشتہاریوں اور ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کو پکڑنے کی بجائے صرف جعلی کارکردگی دکھانے تک محدود ہے،انتظامیہ مختلف سوسائٹیز کو بھاری رشوت کے عوض ایل او پیز جاری کرتی ہیں، شہری ایل او پیز کے نام پر قبضہ مافیا اور نوسربازوں کے جھانسے میں آ جاتے ہیں۔

سادہ لوح شہری گورنمنٹ سے منظور شدہ سوسائٹی کے نام پر اپنی جمع پونجی لٹا دیتے ہیں،اربوں لوٹنے کے بعد مبینہ طور پرانتظامیہ سوسائٹی کی ایل او پی کینسل کر دیتی ہے،انتظامیہ کی طرف سے مبینہ طور یہ موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ سوسائٹی مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اتری، ایل او پی ملنے کے بعد کئی سال انتظامیہ کے کرپٹ افسران، اہلکار اور قبضہ مافیا سوسائٹی لوٹ مار کر کے جیبیں گرم کرتے ہیں۔

اس طرح شہریوں کے لٹنے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چلتا رہتا ہے،شہری سرکاوری اداروں اورعدالتوں کے چکر لگا کر تھک ہار کر اپنا مقدر سمجھ کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، اس سارے کھیل میں سرکاری مشینری کے ڈی سی سے لے کر پٹواری، محکمہ پولیس کے اعلیٰ افسران سے لے کر سپاہی اور انتظامیہ کے افسران و اہلکار شامل ہوتے ہیں۔

محکمہ پولیس کو قبضہ سے پہلے اتنا مال دے دیا جاتا ہے کہ وہ سارے معاملے میں انجان بن جاتے ہیں، شہریوں کو پولیس کی طرف سے یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ یہ سول معاملہ ہے فوجداری نہیں ہے، شہریوں کو شکایت پر عدالت کا راستہ دکھایا جاتاہے، پولیس کا موقف اس معاملے میں ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ زمینوں کے قبضے کے معاملے میں ہم مداخلت نہیں کر سکتے۔

قبضہ مافیا کے ہر ناجائز کام کے عوض منہ مانگی قیمت محکمہ مال کو دی جاتی ہے، قبضہ مافیا، محکمہ مال اور پولیس کے خلاف شہریوں نے چیف جسٹس، وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ ہم کب تک ایسے ہی لٹتے رہیں گے، محکمہ پولیس، محکمہ مال اور انتظامیہ سب کچھ جانتے ہوئے قبضہ مافیا کی سرپرستی کر رہی ہے۔

شہریوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ہمیں اپنی زمینوں کے کاغذات کے لیئے رشوت دینی پڑتی ہے، زمین بیچنے، خریدنے، وراثت وغیرہ ہر کام کے کی رشوت کی ریٹ مقرر ہیں، جنگل کا قانون چل رہا ہے ہر ادارہ کرپٹ ہو چکا ہے،وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، چیف جسٹس، وزیرداخلہ سب کیوں نوٹس نہیں لیتے کیوں خاموش ہیں، پولیس، انتظامیہ اور محکمہ مال کی کرپشن کیا کسی سے کوئی چھپی ہوئی ہے۔

سب کچھ سر عام ہو رہا ہے،کیا پنجاب میں کوئی قانون نام کی چیز نافذ ہے، کرپٹ محکمے، قبضہ مافیا، رشوت مافیا سب سر عام کاروائیاں کر رہے ہیں، ان کو کون لگام ڈالے گا، ہم کس کے آگئے فریاد کریں،احتجاج اور روڈوں پر آنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی حل نہیں بچاہے،ایوانوں میں بیٹھے لوگ ہی ان سارے مسائل کی جڑ ہیں،زمینوں کے معاملات پر مبینہ طور پر قانون سازی نہیں کی جا رہی، شہریوں کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک سڑکوں پر دھرنا دیں گے اور احتجاج جاری رکھیں گے۔

Related Posts