مولانا فضل الرحمن کا عدالتی اصلاحات پیکیج کا حکومتی بل مکمل مسترد کرنے کا اعلان

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو ٹریبیون

مولانا فضل الرحمن نے حکومت کا عدالتی اصلاحات پیکیج مکمل مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ظہرانے کی دعوت پر پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کی رہائش گاہ پہنچے، اس اہم ملاقات میں آئینی ترمیم کے حوالے سے پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ ملاقات کے بعد اسد قیصر نے کہا کہ مولانا مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ انہوں نے مسودے کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے میں سابق صدر عارف علوی، چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان اور دیگر پی ٹی آئی رہنما بھی ظہرانے میں شریک ہوئے۔

صحافیوں کے ایک سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسد قیصر نے میرے بہت کھانے کھائے ہیں اس لیے ان کے ظہرانے میں آیا ہوں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسد قیصر کی رہائش گاہ پر ظہرانے میں آئینی ترمیم کے حوالے سے پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، ملاقات میں دونوں جماعتوں کے درمیان اتحاد سمیت سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم بھی اسد قیصر کی رہائش گاہ پہنچی اور عمران خان سے ملاقات پر شرکاء کو اعتماد میں لیا۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے بتایا کہ مولانا صاحب نے کہا ہے انہوں نے آئینی ترامیم کے مسودے کو مکمل مسترد کر دیا ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام معاملات کو مشاورت سے آگے بڑھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی پارلیمنٹ میں مل کر چلیں گی۔

اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم حکومتی بل کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں، ہم نے حکومت کا مسودہ مکمل مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے ہمارا کوئی مسودہ نہیں، جو کچھ بھی ہے اسے ہمارے حوالے کیا جائے، ہم اس کا مطالعہ کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قوم کی امانت میں اس سے بڑی خیانت نہیں ہوسکتی، اگر ہم حکومت کا ساتھ دیتے تو قوم کے ساتھ خیانت ہوتی، کیونکہ فراہم کیا گیا مسودہ کسی بھی لحاظ سے قابل قبول نہیں تھا۔

اس دوران صحافی نے مولانا فضل الرحمان سے سوال کیا کہ آج خبریں چلی بانی پی ٹی آئی نے آپ سے متعلق سوال کا جواب نہیں دیا، جس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں بھی جواب نہیں دے رہا، میں اس معاملے پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔

Related Posts