کراچی میں مزارِ قائد پر کام کرنے والا بزرگ سیکیورٹی گارڈ معمولی تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہے جس پر معروف صحافی نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان بھر میں نیلی وردی میں ملبوس سیکیورٹی گارڈز ہر نجی بینک، تعلیمی اور کاروباری اداروں میں جابجا نظر آتے ہیں۔ زیادہ تر سیکیورٹی گارڈز کو نجی سیکیورٹی کمپنیز بھرتی کرتی ہیں تاہم انہیں معمولی تنخواہیں دی جاتی ہیں۔
طویل ڈیوٹی کرنے والے یہ سیکیورٹی گارڈز زیادہ تر بغیر انشورنس اور بغیر اضافی سہولیات کے کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جس کے باعث زندگی کی حفاظت کرنے والوں کی اپنی زندگی خطرے میں رہتی ہے۔
زیادہ تر کیسز میں 12 گھنٹے اور بعض کیسز میں 12 گھنٹے سے بھی زیادہ وقت ڈیوٹی سرانجام دینے والے سیکیورٹی گارڈز کی تنخواہیں 7 سے 9ہزار کے درمیان ہوتی ہیں اور ان کی اوسطاً عمریں 50 برس کے لگ بھگ ہوتی ہیں اور غربت کے باعث یہ لوگ ایسی نوکری پر مجبور ہوتے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں معروف صحافی عمر چیمہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ مزارِ قائد پر کام کرنے والا یہ بزرگ گارڈ 12 گھنٹے ڈیوٹی صرف 10 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر سرانجام دے رہا ہے۔
پیغام میں عمر چیمہ نے کہا کہ 8 گھنٹے کی سرکاری طے کردہ کم از کم اجرت 18 ہزار روپے ہے۔ عمران خان بتائیں کہ وزیرِ اعظم کی تنخواہ سے ان کا گزارہ نہیں ہوتا تو اِس بزرگ کا 10 ہزار میں کیسے ہوتا ہوگا؟ کیا حکومت کم از کم اجرت کا اطلاق نہیں کرسکتی؟
قائد کے مزار پر کام کرنے والا یہ بزرگ گارڈ 12 گھنٹے ڈیوٹی 10 ہزار تنخواہ میں کرتا ہے 8 گھنٹے کی سرکاری طے کردہ کم از کم اجرت 18 ہزار ہے عمران خان بتائیں کہ وزیراعظم کی تنخواہ سے انکا گزارا نہیں ہوتا اس بزرگ کا 10 ہزار میں کیسے ہو گا کیا حکومت کم از کم اجرت کا اطلاق نہیں کر سکتی؟ pic.twitter.com/mn4p3nJYYN
— Umar Cheema (@UmarCheema1) December 9, 2020
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک ویڈیوز، سیکیورٹی گارڈز کی پراسرار ہلاکتیں اور بے بس قانون
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








