کراچی :نو مسلم لڑکی آرزو فاطمہ کیس میں 5 رکنی میڈیکل بورڈ نے آرزو فاطمہ کی عمر 15 سے 16 سال قرار دے دی،آرزو فاطمہ نے ایک بار پھر اپنے گھر جانے سے انکار کردیا۔
نو مسلم لڑکی آرزو فاطمہ کیس میں میڈیکل بورڈ کی سیلڈ رپورٹ سندھ ہائیکورٹ میں پیش کردی گئی، عدالت کا کہنا ہے کہ صرف ان لوگوں کی آرزو سے ملاقات کرائی جائے جن سے وہ ملنا چاہے۔
میڈیکل بورڈ کی جانب سے آرزو فاطمہ کو 15 سے 16 سالہ قرار دیا گیا ہے جبکہ آرزو کے والدین اور نادرا دستاویزات کے مطابق اسکی عمر 13 سال ہے جبکہ پولیس نادرا ریکارڈ کی تصدیق کرچکی ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے گزشتہ سماعت پر آرزو کی عمر کے تعین کیلئے نادرا ودیگر دستایزات کو مسترد کرتے ہوئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا اور میڈیکل رپورٹ میں آرزو کو 15 سے 16 سالہ قرار دیا گیا ہے۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر آرزو فاطمہ نے ایک بار پھر اپنے گھر جانے سے انکار کردیاہے جبکہ عدالت نے آرزو سے ملنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف ان لوگوں کی آرزو سے ملاقات کرائی جائے جن سے وہ ملنا چاہے۔