ملیالم فلم انڈسٹری کی مشہور اداکارہ دیویا پربھا کی فلم “آل وی امیجن ایز لائٹ” 2024 کے کانز فلم فیسٹیول میں گرینڈ پری ایوارڈ جیتنے والی پہلی بھارتی فلم بن گئی۔
اس فلم میں ان کی شاندار پرفارمنس کے ساتھ ساتھ ان کے جنسی مناظر بھی شہ سرخیوں کا حصہ بن گئے ہیں۔ ان مناظر میں دیویا کو ایک آئینے کے سامنے کپڑے بدلتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور ایک اہم منظر میں وہ محبت کے جذبات میں مشغول ہیں، جس کی ویڈیو آن لائن لیک ہونے کے بعد تنازعہ کا سبب بنی۔
دیویا پربھا کون ہیں؟
دیویا پربھا نے گزشتہ دس سالوں میں ملیالم فلم انڈسٹری میں نمایاں پرفارمنسز دی ہیں۔ انہوں نے 2017 میں بہترین اداکاری کی ہے۔ دیویا 18 مئی 1991 کو کیرالہ کے علاقے تھریسور میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے 2013 میں انڈسٹری میں قدم رکھا اور 2014 میں تمل انڈسٹری میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔

2015 میں انہیں ٹی وی سیریل میں بہترین دوسری اداکارہ کا ایوارڈ ملا تھا۔ دیویا کو 2022 میں ان کی پرفارمنس کو لوکارنو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بہترین اداکارہ کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔
ایم بی اے کی تعلیم
33 سالہ اداکارہ نے کبھی خود کو اداکارہ کے طور پر نہیں دیکھا تھا بلکہ انہیں کیمرہ سے ڈر لگتا تھا۔ اداکاری ان کے راستے میں اس وقت آئی جب وہ ماسٹرز ان بزنس ایڈمنسٹریشن کر رہی تھیں۔ اپنے کام کے دوران انہوں نے فلموں میں کام کرنا شروع کیا اور پھر یہ سمجھا کہ فلموں میں زیادہ پیسہ ملتا ہے، جس کے بعد انہوں نے مزید کرداروں کو اپنانا شروع کر دیا۔
ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے “ٹیک آف” سے فلم “آل وی امیجن ایز لائٹ” تک اپنے اداکاری کے سفر کے بارے میں کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا، “میں نے کبھی سینما کی تعلیم نہیں حاصل کی۔ ہر کردار کے ساتھ، چاہے وہ فلم ہو یا تھیٹر، سیکھنے اور ان سیکھنے کا عمل جاری رہتا ہے۔”

“میں نے سیکھا کہ کسی کردار کو کس طرح اپروچ کیا جائے اور اس کے لیے تیاری کی جائے۔ اب میں زیادہ آگاہ ہوں کہ کردار کو بہتر بنانے کے لیے کیا کرنا ضروری ہے، خاص طور پر پائل کی فلم میں۔ جتنا سیکھتی ہوں، اتنا ہی سمجھ میں آتا ہے کہ یہ کتنا مشکل ہے۔”
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








