خواجہ سراؤں کے حقوق کی رکن اور جینڈر انٹرایکٹو الائنس کی رکن شہزادی رائے نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) کی سٹی کونسل کی نشست کے لیے حلف اٹھالیا۔
انہیں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے میونسپل کونسل میں خواجہ سراؤں کے کوٹے کے لیے نامزد کیا تھا۔
1947 کی تقسیم سے قبل نوآبادیاتی حکمرانی کے بعد اب پہلی بار ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو کونسل میں باضابطہ طور پر نمائندگی دی گئی ہے۔
ایم ایم نیوز نے شہزادی رائے کے ساتھ ایک ملاقات کا اہتمام کیا، جس میں اُن سے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی سٹی کونسل کی نشست حاصل کرنے کے حوالے سے گفتگو کی۔
شہزادی رائے نے اپنی جدوجہد کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا کہ ‘میں شروع سے ہی سیاست پر گہری نظر رکھتی تھی، جس پر مجھے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا کہ تم کون ہوتی ہو سیاست پر رائے دینے والی لیکن میں نے کبھی بھی اپنی رائے دینی نہیں چھوڑی، وقت اور حالات بدلے میری ایک ایونٹ میں ناصر حسین شاہ سے ملاقات ہوئی جنہوں نے مجھے یہ امید دلائی کہ کے ایم سی میں ہماری کمیونٹی کو بھی کام کرنے کا موقع دیا جائے گا اور پھر آخر کار مجھے موقع مل گیا’۔
آپ کو یہاں پر بتاتے چلیں کے ایم سی میں خواتین، لیبر اور اقلیتی برادری کی مخصوص نشستیں ہوتی ہیں اور اب پہلی بار خواجہ سراؤں کی بھی نشست شامل کی گئی ہے۔
ایم ایم نیوز نے سے بات کرتے ہوئے شہزادی رائے نے کہا کہ ‘میں کے ایم سی میں نشست حاصل کرنے پر بہت زیادہ خوش ہوں اور پیپلز پارٹی کی بھی شکر گزار ہوں کیونکہ پیپلز پارٹی کی وجہ سے مجھے یہ نشست ملی ہے۔ اب میں اپنی کمیونٹی کیلئے بہتر طریقے سے کام کرسکوں گی’۔
انہوں نے بتایا کہ اُن کی سعید غنی سے بھی ملاقات ہوئی ہے جنہوں نے انھیں کے ایم سے کے کام کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں بتایا ہے۔
ایم ایم نیوز کو اپنے مطالبات کے بارے میں بتاتے ہوئے شہزادی رائے کہا کہ ہمارا پہلا مطالبہ یہی ہوگا کہ جتنی بھی حکومتی پالیسیز ہوں ان میں رنگ، نسل اور جنس کی تفریق نہیں کی جائے، میں پبلک پارکس پر ضرور بات کروں گی کیونکہ ہماری کمیونٹی کو پبلک پارکس میں جانے کی اجازت نہیں ہوتی اور میں سمجھتی ہوں کہ یہ ہمارا آئینی حق ہے جو کہ ہمیں نہیں دیا جارہا اور میں اس پر ضرور کام کرونگی، کوشش کرونگی کہ پبلک پارکس میں ہر کسی کو بغیر کسی تفریق کے جانے کی اجازت ہو۔
آخر میں اُنہوں نے کہا کہ پالیسیز سے زیادہ ہمیں لوگوں کا نظریہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ حکومت پالیسیز لے آتی ہے لیکن لوگوں کی تنگ نظری کی وجہ سے اُن کو لاگو نہیں کرپاتی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








