ٹرمپ نے مودی سرکاری کی چیخیں نکلوادیں، ٹریف 50 فیصد کرنے کی وجہ کیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

TRUMP MODI
BBC

نئی دہلی/واشنگٹن: پانچ بار کے تجارتی مذاکرات اور کئی مہینوں کی سفارتی کوششوں کے بعد بھارت اور امریکہ کے درمیان ممکنہ تجارتی معاہدہ ناکامی کا شکار ہوگیا جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد اضافی محصولات عائد کر دیے جس سے مجموعی شرح 50 فیصد تک جا پہنچی۔

ذرائع کے مطابق بھارتی حکام اس معاہدے کے طے پانے کے بارے میں اتنے پُرامید تھے کہ مقامی میڈیا کو عندیہ دے دیا گیا تھا کہ درآمدی محصولات 15 فیصد تک محدود ہو جائیں گی۔

انہیں توقع تھی کہ صدر ٹرمپ یکم اگست سے قبل معاہدے کا باضابطہ اعلان خود کریں گے لیکن یہ اعلان نہ ہوا اور اس کے برعکس نئی دہلی کو ایک اچانک دھچکے کا سامنا کرنا پڑا۔

اب بھارت کو نہ صرف اضافی محصولات کا سامنا ہے بلکہ روس سے تیل کی درآمدات پر مبینہ امریکی پابندیوں کا بھی۔ اس دوران امریکہ نے جاپان، یورپی یونین اور پاکستان جیسے ممالک کے ساتھ نسبتاً بہتر شرائط پر معاہدے کیے۔

ریاستی ذرائع کے مطابق دونوں طرف سے سفارتی بدانتظامی، سیاسی غلط فہمیوں اور مؤثر رابطے کی کمی نے معاہدے کو ناکامی کی طرف دھکیلاحالانکہ بیشتر معاملات پر تکنیکی سطح پر اتفاق ہو چکا تھا لیکن چند بنیادی اختلافات حل نہ ہو سکے۔

بھارت نے امریکہ کو صنعتی مصنوعات پر صفر فیصد محصولات کی پیشکش کی تھی جو امریکہ کی برآمدات کا تقریباً 40 فیصد حصہ ہیں۔

اس کے علاوہ، کاروں اور شراب پر بتدریج محصولات میں کمی کی تجویز دی گئی تھی۔ توانائی اور دفاعی شعبے میں درآمدات بڑھانے پر بھی آمادگی ظاہر کی گئی تھی۔

امریکہ کی جانب سے زرعی اور ڈیری مصنوعات پر مکمل رسائی کا مطالبہ بھارت کے لیے ناقابلِ قبول رہا۔ خاص طور پر جب بھارت نے خود کو ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر پیش کرتے ہوئے زور دیا کہ ایک ارب چالیس کروڑ کی منڈی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ٹرمپ انتظامیہ دوسری جانب زیادہ وسیع رسائی، بڑے پیمانے پر امریکی سرمایہ کاری، اور واضح خریداریاں چاہتی تھی تاکہ معاہدے کو بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

امریکہ نے جنوبی کوریا جیسے ممالک سے معاہدے کر لیے جہاں 25 فیصد کے بجائے 15 فیصد محصولات کی شرح منظور کی گئی، مشروط اس بات پر کہ وہ توانائی اور زرعی مصنوعات کی امریکی برآمدات میں بڑا حصہ دیں گے۔ بھارت اس سطح کی رعایتیں دینے کو تیار نہیں تھا۔

معاملات کو مزید بگاڑنے میں صدر ٹرمپ کی طرف سے بھارت-پاکستان تنازعے میں ثالثی کی بارہا پیشکش نے بھی کردار ادا کیا۔ بھارتی حکام کے مطابق، یہ بیانات سفارتی طور پر غیر موزوں اور حساس تھے، جس کے باعث وزیرِ اعظم نریندر مودی نے صدر ٹرمپ سے براہِ راست بات کرنے سے گریز کیا۔

بھارتی حکام مانتے ہیں کہ انہیں امریکہ کے جاپان، یورپی یونین، اور دیگر ممالک کے ساتھ معاہدوں کے بعد سفارتی حمایت حاصل نہیں رہی، اور اس خلا نے مذاکرات کو مزید کمزور کیا۔

صدر ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ بھارت سے درآمدات پر محصولات کو اگلے 24 گھنٹوں میں بہت زیادہ بڑھایا جائے گا اور الزام لگایا کہ بھارت کی روس سے تیل کی خریداری یوکرین میں جنگ کو تقویت دے رہی ہے۔

امید ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ایک امریکی وفد رواں ماہ نئی دہلی کا دورہ کرے گا اور بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اگر کچھ اہم رعایتیں دی جائیں تو معاہدے کی بحالی ممکن ہے۔

ذرائع کے مطابق بھارت زرعی اور ڈیری شعبوں میں محدود رعایتوں کا جائزہ لے رہا ہےجبکہ روسی تیل کی خریداری میں کمی کے بدلے امریکی توانائی پر انحصار بڑھایا جا سکتا ہے بشرطیکہ قیمت مناسب ہو۔

Related Posts