تین سال سے لاپتا معصوم بچی پریا کماری کا سراغ مل گیا، بچی کے سندھ کی با اثر شخصیت کے قبضے میں ہونے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے، بچی کو جلد والدین کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے۔
اطلاعات کے مطابق تین سال سے لاپتا پریا کماری زندہ ہے اور اس کے سندھ کی ایک با اثر شخصیت کے قبضے میں ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے سندھ سے تعلق رکھنے والے اس بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے والے کیس میں نیا موڑ آگیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بچی کا سراغ لگا لیا گیا ہے، بچی کو 14 اگست سے پہلے اس کے والدین کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ دریں اثنا سندھ کے وزیر داخلہ ضیاءالحسن لنجار سے پریا کماری کے والدین اور گزشتہ روز کلفٹن کے دھرنے میں موجود مذاکراتی کمیٹی نے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کی۔
ملاقات میں وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار کے علاوہ پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی مکیش کمار چاؤلا، لعل چند اکرانی، ڈاکٹر شام سندر سمیت دیگر موجود تھے، ملاقات میں پریا کماری کی بازیابی سے متعلق قائم کی گئی جوائنٹ انوسٹیگیشن ٹیم، ڈی آئی جی جاوید جسکانئ، ایس ایس پی امجد شیخ، ایس ایس پی تنویر تنیو اور سول سوسائٹی کے نمائندے شیما کرمانی، فہمیدہ ریاض، لیاقت جلبانی اور دیگر بھی موجود تھے۔
ڈی آئی جی جاوید جسکانی نے جے آئی ٹی کی جانب سے پریا کماری کی بازیابی کے حوالے سے کی گئی انوسٹیگیشن کے متعلق مذاکراتی کمیٹی اور والدین کو بریف کیا۔
وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک گمنام کیس تھا مگر سندھ پولیس نے اس کیس میں امید پیدا کی اور بتایا کہ پریا کماری زندہ ہے، جس کے شواہد بھی ملے ہیں بہت جلد انوسٹیگیشن ٹیم کو کامیابی ملے گی۔
انہوں نے شواہد اور تفصیلات والدین اور کمیٹی کے ساتھ شیئر بھی کیے۔ وزیر داخلہ ضیاءالحسن لنجار نے کہا کہ پریا کماری ہماری بھی بیٹی ہے، پریا کی بازیابی کے لئے سندھ پولیس کی بہترین ٹیم تشکیل دی گئی ہے، تحقیقاتی ٹیم نے تین سال بعد پریا کے زندہ ہونے کے شواہد اکٹھے کئے اور الحمدللہ ٹیم کیس کے حل کے قریب پہنچ چکی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








