برطانیہ میں پاکستانی شہریوں کی جانب سے سیاحتی ویزوں کا غلط استعمال کرتے ہوئے پناہ کی درخواستیں جمع کرانے کا رجحان عروج پر پہنچ گیا ہے جس سے یو کے کی ہوم آفس پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
برطانوی ادارے ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق رواں سال پاکستانیوں کی پناہ کی درخواستیں 10,000 سے تجاوز کر گئیں جو کل دعووں کا ایک چوتھائی (25%) بنتی ہیں۔ ایک سال پہلے یہ تعداد صرف 2,154 تھی۔ یہ اضافہ برطانیہ کی لبرل ویزا پالیسیوں میں خامیوں کو اجاگر کر رہا ہے، جہاں سیاحتی ویزوں پر آنے والے افراد براہ راست پناہ کی درخواست دے دیتے ہیں۔
حکومتی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2024 میں پاکستانی شہریوں کی 9,829 درخواستیں درج ہوئیں جو 2023 کی 2,154 سے 356% کا اضافہ ہے۔ یہ تعداد برطانیہ میں تمام نئے پناہ کے دعووں کا 24% ہے، جو افغانستان (11%) اور ایران (9%) جیسے بحران زدہ ممالک سے بھی زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ویزا لوپ ہول پاکستان کی معاشی مشکلات، بے روزگاری اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ہو رہا ہے جہاں لوگ برطانیہ کو آسان پناہ کا راستہ سمجھتے ہیں۔
یو کے ہوم آفس کے مطابق ان میں سے اکثر درخواستیں معاشی وجوہات پر مبنی ہیں جو پناہ کے معیار (جسے اچانک خطرہ کی ضرورت ہے) پر پورا نہیں اترتیں تاہم قانونی چیلنجز کی وجہ سے 40% کیسز عدالتوں میں چل رہے ہیں جو نظام پر بوجھ بڑھاتے ہیں۔
وجوہات اور پس منظر
پاکستان سے آنے والے افراد میں سے 80% سے زائد مرد ہیں جن کی عمر 25-40 سال ہے۔ رپورٹ کے مطابق، کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے براہ راست پروازیں ہیثرو اور گیٹ وک تک لے جاتی ہیں، جہاں ویزا چیک کمزور ہونے کی وجہ سے لوگ آسانی سے اندر آ جاتے ہیں۔
ایک پاکستانی درخواست دہندہ نے نام چھپانے کی شرط پر بتایاکہ پاکستان میں نوکری نہیں، یہاں کام مل جائے گا۔ ویزا لے کر آیا، اب پناہ لوں گا۔
برطانوی حکومت کی سابقہ پالیسیوں جیسے 2022 کی روٹس آف پاکستان اسکیم (جو پاکستانیوں کو آسان ویزے دیتی تھی) نے اس رجحان کو ہوا دی۔ اب لیبر حکومت نے ویزا اسکریننگ سخت کرنے کا اعلان کیا ہے مگر اپوزیشن (کنزرویٹوز) اسے لبرل نرمی قرار دے رہی ہے۔
ہوم سیکریٹری یوووکو ہابیٹ نے پارلیمنٹ میں کہاکہ ہمارا نظام استحصال کا شکار ہے۔ فوری اصلاحات لائی جائیں گی، بشمول اے آئی پر مبنی خطرہ تشخیص اور پاکستان سے براہ راست ڈیپورٹیشن معاہدہ کیا جائے۔
امیگریشن ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ رجحان یورپی یونین اور کینیڈا جیسے ممالک میں بھی پھیل سکتا ہے جہاں پاکستانیوں کی ہجرت 20% بڑھ چکی ہے۔ برطانیہ کی پناہ پالیسی میں مزید تبدیلیاں متوقع ہیں جو تارکین وطن کے لیے چیلنجز بڑھا دیں گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








