لاہور کی تاریخی مسجد وزیر خان میں ماڈلنگ اور ویڈیو شوٹ پراکبری گیٹ پولیس نے ماڈل ازبیا خان اور فوٹوگرافر زین شاہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
یہ کارروائی والڈ سٹی لاہور اتھارٹی کے افسر محمد اویس کی درخواست پر عمل میں لائی گئی جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مسجد کی حرمت کو پامال کیا گیا ہے۔
🚨⚠️#ATTENTION ‼️
2020 میں پنجاب اوقاف اور Religious Affairs Department نے پابندی لگا دی تھی کہ کسی بھی مسجد یا دربار کے باہر عورتیں شوٹنگ نہیں کر سکتی۔
اس #azbiakhan نامی لجنا عورت نے مسجد کے تقدس کو پامال کر کے 2020 میں بنائے جانے والے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کڑوڑوں… pic.twitter.com/og7rPoP5va
— 𝗗 𝗢 𝗖 𝗧 𝗢 𝗥 (@TLP_Trends9263) August 11, 2025
ایف آئی آر کے مطابق ماڈل نے مبینہ طور پر نامناسب لباس میں بغیر اجازت ویڈیو ریکارڈ کرائی، جو بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
اس واقعے کے بعد عوامی حلقوں اور سماجی میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا اور والڈ سٹی اتھارٹی کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا۔ افسران کے مطابق یہ ویڈیو تقریباً چار روز قبل ریکارڈ کی گئی تھی۔
Model #AzbiaKhan, in a bold dress, poses for photographer #ZainShah in front of historic Wazir Khan Mosque, Lahore
⚠️ Remember: Since August 2020, Punjab Auqaf and Religious Affairs Department has banned filming especially featuring women in mosques or shrines pic.twitter.com/A9KznxbRiP
— Showbiz & News (@ShowbizAndNewz) August 11, 2025
یہ پہلی بار نہیں کہ مسجد وزیر خان میں اس نوعیت کا تنازع سامنے آیا ہو۔
اس سے قبل اگست 2020 میں اداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید کے خلاف بھی ویڈیو شوٹ کے معاملے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے بعد محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب نے مساجد اور مزارات میں ڈراموں اور فلموں کی شوٹنگ پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








