مودی حکومت کا راہل گاندھی کو بنگلہ خالی کرنے کا نوٹس، اپوزیشن سراپا احتجاج

تازہ ترین

تازہ ترین

نئی دہلی: بھارت کی نریندر مودی حکومت نے اپوزیشن رہنما راہل گاندھی کو پارلیمنٹ کی رکنیت سے خارج کیے جانے کے بعد بنگلہ خالی کرنے کا نوٹس بھجوا دیا جس پر اپوزیشن سراپا احتجاج ہے۔

تفصیلات کے مطابق مودی حکومت نے ایک ماہ سے بھی کم مدت میں بنگلہ خالی کرنے کا نوٹس بھجوایا۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ گزشتہ 5روز میں راہل گاندھی پرٹوٹنے والی یہ تیسری قیامت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

پاکستانی نژاد حمزہ یوسف پہلے  مسلمان فرسٹ منسٹر منتخب

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پہلے تو راہول گاندھی کو سورت کورٹ کے ذریعے ہتکِ عزت کے ایک مقدمے میں 2 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ پھر لوک سبھا کی رکنیت اور اب بنگلے سے محرومی کی خبر ملی۔

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ لوک سبھا کی ہاؤس کمیٹی کی جانب سے راہل گاندھی کو بنگلہ خالی کرنے کا نوٹس بھیجا گیا جس میں آئندہ ماہ کی 22 تاریخ تک کا مختصر وقت دیا گیا ہے۔

قبل ازیں نریندر مودی کے سر نیم مودی کو نشانہ بنانے پر ایک اور بی جے پی رہنما نے راہل گاندھی کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ درج کروایا۔ کانگریس رہنماؤں نے واقعے پر شدید احتجاج کیا۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ مودی حکومت راہل گاندھی کی سیاسی تنقید کو بلا وجہ ذاتی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔ رکنِ پارلیمنٹ پرمود تیواری نے کہا کہ مودی حکومت کے اقدامات راہل گاندھی سے نفرت کا مظہر ہیں۔

 

Related Posts