نئی دہلی / اسلام آباد: پاک بھارت دوستی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور پارٹی قائد نواز شریف کی امن کی پیشکش پر مودی کا متعصبانہ جواب سامنے آگیا۔ نومنتخب بھارتی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بھارتی شہریوں کی سکیورٹی اور خوشحالی ہماری ترجیح ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے لوک سبھا انتخابات میں جزوی کامیابی سمیٹتے ہوئے حال ہی میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا ہے۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اپنے ایکس پیغام میں کہا کہ بھارتی وزیراعظم کو حلف اٹھانے پر مبارکباد دیتے ہیں جس پر بھارتی ہم منصب نریندر مودی نے شکریہ ادا کیا۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے نومنتخب بھارتی وزیراعظم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کو تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پرمبارکباد پیش کرتے ہیں۔ بی جے پی کی کامیابی عوام کے آپ پر اعتماد کی عکاس ہے۔ آئیے مل کر نفرت کو امید سے بدل دیں۔
قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے کہا کہ آئیے، جنوبی کے 2 ارب لوگوں کی تقدیر سنوارنے کے موقعے سے فائدہ اٹھائیں۔ واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین 5 اگست 2019 کے روز مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے سے لے کر اب تک باہمی تعلقات کشیدہ ہیں جن میں بہتری کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔
نواز شریف کے پیغام کا جواب دیتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ “بھارت کے لوگ ہمیشہ امن، سلامتی اور ترقی پسند خیالات کا ساتھ دیتے آئے ہیں، لیکن بھارتی شہریوں کی سلامتی اور خوشحالی ہماری اوّلین ترجیح ہے۔” جس سے پتہ چلتا ہے کہ دو طرفہ تعلقات میں بہتری کی فی الحال امید نہیں کی جاسکتی۔
واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے سکیورٹی، امن و سلامتی اور اپنے لوگوں کی حفاظت کو ترجیح دینے کے بیانات سے مراد نریندر مودی کے اس بے بنیاد بیانیے کی جانب اشارہ کرنا ہے کہ بھارت میں پاکستان سے دہشت گردی ہوتی ہے، حالانکہ پاکستان خود دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں شامل ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








