نئی دہلی: منی پور فسادات پر مودی حکومت کی خاموشی کو شرمناک قرار دیا جارہا ہے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارتی ریاست منی پور میں گزشتہ 1سال سے جاری فسادات پر نہ تو ریاستی اور نہ ہی مرکزی حکومت نے ایکشن میں پہل کی۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی اخبار روزنامہ صحافت میں شائع مضمون کے مطابق منی پور 1 سال سے تشدد کی آگ میں جل رہا ہے لیکن مودی حکومت مسلسل چین کی نیند سوتی نظر آئی۔ اس پر مسلسل انگلیاں اٹھائی گئیں اور گزشتہ برس مئی میں فوج کے گشت کے بعد تشدد پر قابو پالیا گیا۔
تاہم ایک ماہ کے بعد منی پور میں دوبارہ تشدد شروع ہوگیا جس کے بعد سے منی پور کی ریاست مسلسل تشدد کی آگ میں جل رہی ہے جس پر قابو پانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ تشدد پسند عناصر نے پولیس کے اسلحہ ڈپو سے بڑے پیمانے پر اسلحہ لوٹ کر قاتلانہ حملے شروع کردئیے۔
تشویشناک طور پر اس دوران وفاقی وزیر داخلہ جو منی پور پہنچے تھے، ان کی جانب سے دی گئی وارننگ پر بھی شرپسند عناصر پر کوئی فرق نہیں پڑا اور حکومت کی رِٹ نہ ہونے کے برابر رہ گئی جس کے بعد کئی گھر جلا دئیے گئے اور عبادت گاہیں تباہ کردی گئیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق منی پور میں 60ہزار سے زائد لوگ بے گھر ہو کر ریلیف کیمپس میں رہنے پر مجبور ہیں۔ 200سے زائد افراد ہلاک ہوگئے، کئی خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور برہنہ پریڈ کرائی گئی لیکن مودی حکومت تاحال خاموش ہے۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ نریندر مودی نے بطور وزیراعظم منی پور فسادات پر منہ کھولنے تک کی جرأت نہیں کی۔ نریندر مودی کی نئی حکومت نے منی پور پر میٹنگ بلا کر یہ معاملہ حل کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے تاہم منی پور کے عوام کو مودی حکومت کی یقین دہانی کا اعتبار نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








