صومالیہ: موغادیشو کے صدارتی محل کے قریب خود کش دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم 8 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ڈرائیور نے دھماکا خیز مواد کو اس وقت دھماکے سے اڑا دیا جب پولیس نے اسے ایک چوکی پر روکنے کی کوشش کی۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق دھماکے کی ذمے داری صومالیہ کے شدت پسند گروپ الشباب نے قبول کی ہے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ گاڑی کےدھماکا صومالیہ کے صدارتی محل سے ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر ہوا۔ ایک عینی شاہد کے مطابق چیک پوائنٹ سے گزرنے سے پہلے گاڑیوں کو چیک کرنے کے لیے روکتے ہیں، اس گاڑی کو سیکیورٹی گارڈز نے روکا اور اس میں دھماکا ہو گیا۔ عینی شاہد کا کہنا ہے کہ دھماکے کی جگہ پر میں نے متعدد افراد کو جاں بحق اور زخمی حالت میں دیکھا۔
دارالحکومت کے پولیس چیف مکاوی احمد مودی نے دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ خودکش دھماکہ ایک کار کے ذریعے کیا گیا جس کے نتیجے میں عام شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق خودکش حملہ آور نے جس سڑک پر دھماکہ کیا وہ سڑک صدر اور وزیراعظم دارالحکومت موغادیشو کے ہوائی اڈے پر آنے اور جانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون ہیباق ابوکر بھی شامل ہیں جو وزیر اعظم محمد روبل کے مشیر برائے خواتین اور انسانی حقوق ہیں۔
واضح رہے کہ القاعدہ سے وابستہ گروپ الشباب نے موغادیشو پر 2011 تک حکومت کی لیکن اسی سال افریقی یونین کے فوجیوں نے انہیں شہر سے نکال دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا نیویارک کا 5 روزہ دورہ مکمل
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








