بنگلورو میں ایک 22 سالہ بی کام ڈراپ آؤٹ نوجوان نے فوری دولت کمانے کی خواہش میں خود کو سائبر کرائم کی دنیا میں دھکیل لیا۔ اس نے دبئی میں مقیم ایک بھارتی سرغنہ کے لیے ہزاروں بینک اکاؤنٹس کے انتظام کے ذریعے سالانہ کم از کم 25 لاکھ روپے کی کمائی کی۔ اس غیر قانونی سرگرمی میں اس کی والدہ شبانہ عبدل باری بھی شریک تھیں، جنہوں نے تقریباً 4,200 اکاؤنٹس کے آپریشن اور انتظام میں بیٹے کی مدد کی۔
پولیس کے مطابق ملزم محمد اوزیف اور اس کی والدہ کو ہولیماؤ پولیس کی خصوصی ٹیم نے حال ہی میں گرفتار کرکے بنگلورو سنٹرل جیل میں عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ماں اور بیٹے نے سائبر فراڈ کے ذریعے حاصل شدہ رقم کو صاف کرنے کے لیے تقریباً 24 کروڑ روپے مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کیے۔
یہ معاملہ ابتدائی طور پر ایک کالج ڈراپ آؤٹ سے شروع ہوا لیکن جلد ہی یہ ایک بڑے بین الاقوامی نیٹ ورک میں تبدیل ہو گیا۔ دہلی سے 9 دیگر نوجوان بھی گرفتار کیے گئے جو اوزیف کے نیٹ ورک میں بینک اکاؤنٹس کا انتظام کرتے، ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے رقم نکالتے اور اسے کورئیر کے ذریعے دبئی بھیجتے تھے۔
تفتیش کاروں نے بتایا کہ مجموعی طور پر 11 ملزمان تقریباً 9,000 اکاؤنٹس کے ذریعے 240 کروڑ روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز میں ملوث تھے۔ پولیس کے مطابق یہ نیٹ ورک ملک بھر میں کم از کم 864 سائبر کرائم مقدمات سے جڑا ہوا ہے جس کی تصدیق بنگلورو کے کمشنر پولیس سیمنت کمار سنگھ نے بھی کی۔
دبئی میں مقیم سرغنہ کی شناخت پریم تنیجا کے طور پر ہوئی ہے جو 2013 کے آئی پی ایل اسپاٹ فکسنگ کیس میں گرفتار ہوچکا ہے اور اب مفرور ہے۔ کارروائی کے دوران پولیس نے 242 ڈیبٹ کارڈز، 58 موبائل فونز، 531 گرام سونے کے زیورات، 4.9 لاکھ روپے نقد، 9 قیمتی گھڑیاں، 33 چیک بکس، 21 پاس بکس اور ڈیجیٹل پیمنٹ و کرپٹو کرنسی سے متعلق متعدد دستاویزات ضبط کیں۔
سرکاری حکام کے مطابق گزشتہ سال نومبر میں پولیس کو اطلاع ملی کہ اوزیف اور اس کی والدہ سرکاری اسپتالوں اور کالجوں میں لوگوں کو بینک اکاؤنٹس کھلوانے پر آمادہ کرتے تھے جس کے عوض 2,000 سے 5,000 روپے کمیشن وصول کیا جاتا تھا بعد ازاں یہ اکاؤنٹس، ڈیبٹ کارڈز اور چیک بکس دہلی میں موجود دیگر افراد کو منتقل کیے جاتے اور متاثرہ افراد کے نام پر کم از کم دو سم کارڈز بھی خریدے جاتے تھے۔
تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اوزیف خود کو تاجر ظاہر کرتا اور دعویٰ کرتا کہ وہ ٹیکس بچانے کے لیے دوسروں کے نام پر اکاؤنٹس کھول رہا ہے۔ اس معاملے کی چھان بین کے لیے انسپکٹر بی جی کماراسوامی کی قیادت میں پولیس نے خصوصی ٹیم تشکیل دی۔
پولیس کے مطابق اپریل 2021 میں اوزیف کا رابطہ پریم تنیجا سے ہوا اور تب سے وہ اس کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ اوزیف نے کئی بار والدہ کے ہمراہ دبئی کا سفر کیا اور کم از کم بارہ ملاقاتیں کیں۔ پولیس کے ایک سینئر افسر کے مطابق، اوزیف کے والد کا کووڈ-19 وبا کے دوران انتقال ہو گیا تھا۔
ابتدائی طور پر اوزیف آن لائن گیمنگ ایپ پر منفی تبصرے پوسٹ کرکے تقریباً 20 ہزار روپے کماتا تھا لیکن بعد میں پریم تنیجا کے نیٹ ورک کے ساتھ شامل ہونے کے بعد اس کی آمدنی میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ پولیس کے مطابق اوزیف نے اپنی آمدنی کا ایک حصہ عیش و عشرت پر خرچ کیا جس میں ایک لاکھ روپے تک کے جوتے اور تقریباً 15 لاکھ روپے مالیت کی گھڑیاں شامل ہیں۔
او زیف اپنی والدہ کے ساتھ جے پی نگر کے ایچ ایم ورلڈ اپارٹمنٹ میں رہتا تھا جہاں کرایہ ماہانہ 60 ہزار روپے تھا۔ پولیس کا اندازہ ہے کہ اس کی سالانہ آمدنی کم از کم 25 لاکھ روپے رہی اور ممکن ہے کہ اس سے بھی زیادہ ہو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








