آج سے کم و بیش 44سال قبل 1981 میں جرمنی کے شہر لوبیک میں ایک ایسی واردات ہوئی جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ ماں نے 7سالہ بیٹی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے قصاب کو عبرت ناک سزا دے عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی۔
تفصیلات کے مطابق ماریانے باخمائر ایک عام جرمن خاتون تھیں، ان کی صرف ایک بیٹی تھی، اٍنا باخمائر، جو صرف 7 سال کی تھی۔ 2 مئی 1980 کو اٍنا سکول جانے کے لیے گھر سے نکلی، لیکن وہ کبھی واپس نہ آئی۔
مقدر کی ستم ظریفی کے سوا کیا کہا جائے کہ اس دن 35 سالہ کلاؤس گرابووسکی نامی ایک قصائی (butcher) نے اٍنا کو اغوا کیا۔ اسے اپنے گھر لے گیا، اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور پھر اس کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔ اس نے لاش کو ایک کارٹن میں بند کر کے ایک جگہ پھینک دیا۔
یہی نہیں بلکہ یہ قصاب گرابووسکی پہلے بھی بچوں سے زیادتی کے جرم میں ملوث رہا تھا، یہ سفاک شخص کسی نہ کسی طرح قانون کی گرفت سے بچ نکلا۔ اور اس بار بھی وہ رہائی کیلئے تیار تھا، لیکن بیٹی کے ساتھ زیادتی کرکے قتل کرنے والے کو رہائی مل جائے، یہ ایک ماں سے گوارا نہ ہوسکا۔
اور پھر 1981 میں جب کلاؤس گرابووسکی کا مقدمہ لوبیک کی عدالت میں چل رہا تھا۔ 6 مارچ 1981 کو عدالت کا ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ماریانے باخمائر جو اپنی بیٹی کی موت کے بعد شدید صدمے میں مبتلا تھیں، خاموشی سے بیٹھی تھیں، لیکن ان کے اندر ایک طوفان جنم لے چکا تھا جو کسی آتش فشاں کی طرح لاوا اگلنے کیلئے پوری طرح تیار تھا۔
سماعت کے دوران جب ملزم کو بیان دینے کا موقع ملا تو اس نے نہایت بے شرمی سے کہا کہ “اٍنا چلانا بند نہیں کررہی تھی، اس لیے ملزم نے اسے قتل کردیا”۔ یہ سنتے ہی ماریانے اٹھیں، 22 کیلبر کی بریٹا پسٹل نکالی (جو انہوں نے پہلے سے چھپا رکھی تھی) اور سیدھا چل کر ملزم کے قریب پہنچیں۔
عدالت میں موجود سب لوگ حیران تھے۔ ماریانے نے ملزم کی پشت کی طرف 8 گولیاں فائر کیں۔ 7 گولیاں اس کی پیٹھ، گردن اور سر میں لگیں۔ کلاؤس گرابووسکی وہیں ڈھیر ہوکر موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ کیونکہ یہ واقعہ پوری عدالت میں کیمروں کی موجودگی میں ہوا، اس اس عبرتناک واقعے کی ویڈیو آج بھی موجود ہے اور سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کررہی ہے۔
1981 – Marianne Bachmeier the woman who k1lled the r@pist & murderer of her 7 year old daughter in a crowded courtroom.
Maybe if we treated ped0s like Marianne treated this POS, maybe they’d stop touching our kids.
Comments for full story. pic.twitter.com/BseS5eRFl8
— SpeakWithDeeDee (@SpeakWithDeeDee) December 6, 2025
ملزم کو بھری عدالت میں قتل کرنے کے بعد ماریانے کو گرفتار کر لیا گیا۔ مقدمے میں ان پر قتل کا الزام لگایا گیا۔ لیکن جرمنی بھر میں عوام ماریانے کے حق میں کھڑی ہو گئی۔ لوگوں نے پیسے اکٹھے کر کے ان کا وکیل کیا، سڑکوں پر مظاہرے ہوئے۔ بہت سے لوگوں نے اسے “انتقام لینے والی ماں” قرار دیا تاہم بعض حلقوں نے قانون ہاتھ میں لینے کے عمل پر اس خاتون کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔
اور پھر یوں ہوا کہ 1982 میں عدالت نے ماریانے کو قتل عمد کے بجائے “ہتھیار کے غلط استعمال اور غیر ارادی قتل” (manslaughter) کا مجرم قرار دیا اور صرف 6 سال قید کی سزا سنائی۔ لیکن وہ 3 سال بعد ہی 1985 میں رہا ہو گئیں۔
رہائی کے بعد وہ کچھ عرصہ نائجیریا میں رہیں، پھر جرمنی واپس آئیں۔ 1996 میں انہیں کینسر ہوا اور 17 ستمبر 1996 کو 46 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کی آخری خواہش تھی کہ انہیں ان کی بیٹی اٍنا کے ساتھ ہی دفن کیا جائے۔
آج بھی جرمنی اور دنیا بھر میں ماریانے باخمائر کو کچھ لوگ ہیرو مانتے ہیں، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قانون ہاتھ میں لینا غلط تھا۔ لیکن تقریباً سب اس بات پر متفق ہیں کہ انہوں نے وہی کیا جو ہر ماں کا دل چاہتا ہے جب اس کے بچے کے ساتھ ایسی وحشت ہو۔ان کی قبر پر لکھا ہے: “اٍنا اور ماریانے – ماں اور بیٹی، اب ہمیشہ ایک ساتھ۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








