سندھ حکومت نے اچانک متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفاقی وزراء، سینئر رہنماؤں اور اراکین اسمبلی کی پولیس سیکیورٹی واپس لے لی جس کے بعد صوبے میں سیاسی ہلچل اور تناؤ کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزرا خالد مقبول صدیقی، مصطفٰی کمال، سینئر رہنما فاروق ستار اور انیس قائم خانی سمیت پارٹی کے اہم رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس لی گئی ہے جبکہ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی سیکیورٹی بھی ختم کر دی گئی ہے۔
پارٹی ذرائع نے بتایا کہ انہیں اس اقدام کی واضح وجہ نہیں بتائی گئی تاہم سیکیورٹی واپس لینے کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ حکومت اور خاص طور پر سانحہ گل پلازا پر سخت تنقید کی تھی۔
ایم کیو ایم پاکستان نے اس صورتحال پر آج شام 4:00 بجے ہنگامی پریس کانفرنس بلا کر اپنا مؤقف پیش کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں متوقع ہے کہ پارٹی رہنماؤں کی جانب سے سیکیورٹی واپس لینے کے فیصلے کے بارے میں اپنے تحفظات اور آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔
پارٹی نے سیکیورٹی واپس لینے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس فیصلے کے پیچھے ممکنہ سیاسی وجوہات کا علم نہیں ہوا اور انہوں نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ بھی گل پلازا واقعے کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








