گھر میں گھس کر گولیوں کی برسات کردی! معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام جاں بحق

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے سب سے معروف بیٹے سیف الاسلام قدافی کو ملک کے زنتان شہر میں فائرنگ کے نتیجے میں قتل کر دیا گیا جس کی تصدیق ان کے وکیل اور قریبی ذرائع نے کی ہے۔

لیبیا کے مقامی میڈیا اور قدافی کے سیاسی دفتر نے بتایا کہ چار نامعلوم مسلح افراد نے سیف الاسلام کے گھر پر حملہ کیا۔ انہوں نے سیکیورٹی کیمروں کو بند کرنے کے بعد ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی زخمی ہو کر جاں بحق ہو گئے۔

لیبیا کے اٹارنی جنرل کے دفتر نے بھی لاش کا معائنہ کیا اور فائرنگ کے زخموں کو موت کی وجہ قرار دیا۔ ساتھ ہی ملزمان کی شناخت اور مقدمہ چلانے کے لیے تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔

سیف الاسلام قدافی 53 سال کے تھے اور اپنے والد کے دورِ حکومت میں اہم سیاسی کردار ادا کرتے رہے۔ 2011 میں ہونے والے انقلاب کے بعد ان کی عوامی شہرت میں کمی آئی۔ انہیں اسی انقلاب کے دوران ہونے والے تشدد کے الزامات اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات کا سامنا بھی تھا۔

2015 میں لیبیا کی عدالت نے ان پر غیر موجودگی میں سزا سنائی تھی جبکہ وہ 2021 میں صدراتی انتخاب میں حصہ لینے کی کوشش بھی کر چکے تھے تاہم سیاسی پابندیوں اور ملک میں جاری تنازعات کی وجہ سے وہ انتخابات میں کامیاب نہ ہو سکے۔

یہ واقعہ لیبیا کے سیاسی انتشار اور عدم استحکام کے پس منظر میں سامنے آیا جہاں مختلف سیاسی اور فوجی گروپ ایک طویل عرصے سے اقتدار کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔

Related Posts