کراچی: جامعہ احسن العلوم کراچی کے مہتمم معروف علمی شخصیت شیخ الحدیث والتفسیر مفتی زر ولی خان انتقال کرگئے۔
ذرائع کے مطابق معروف علمی دینی شخصیت مفتی زر ولی خان دنیا سے پردہ فرما گئے، وہ 3 ماہ سے شدید علالت میں مبتلا تھے اور کراچی کے اسپتال میں زیر علاج تھے۔
گزشتہ روز طبیعت کی ناسازی پر انھیں اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔مفتی زر ولی کی عمر 67 برس تھی، انہوں نے 1978 میں احسن العلوم کی دینی درس گاہ قائم کی،
مرحوم پوری زندگی درس و تدریس سے وابستہ رہے، وہ کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔مرحوم ہزاروں علما کے بھی استاد تھے، انھیں تفسیر و حدیث کے درس میں منفرد مقام حاصل تھا، ان سے استفادے کے لیے ملک بھر سے طلبہ آتے تھے اور ان کے علم سے مستفید ہوتے تھے۔
مرحوم مفتی زر ولی ضلع صوابی کے قصبہ جہانگرا میں 1953 میں پیدا ہوئے، علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن گرومندر سے سند فراغت حاصل کی، اور مولانا یوسف بنوری، مولانا عبداللہ کاکا خیل جیسے اکابرین ان کے اساتذہ میں شامل تھے۔
1978 میں انہوں نے گلشن اقبال کراچی میں احسن العلوم کے نام سے مدرسہ قائم کیا، جہاں وہ پوری زندگی درس و تدریس میں مصروف رہے، ان سے درس تفسیر پڑھنے کے لیے پورے ملک سے علما اور طلبہ ہر سال جامعہ احسن العلوم آتے رہے۔
مرحوم مفتی زر ولی کئی کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بہترین خطیب بھی شمار ہوتے تھے، جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم مفتی نعمان نعیم سمیت دیگر مدارس دینیہ کے مہتممین نے ان کے انتقال پر افسوس و تعزیت کا اظہار کیا۔
شیخ التفسیر حضرت مفتی زرولی خان صاحب رحمہ اللہ کی نماز جنازہ بروز منگل صبح 11بجے عیدگاہ گراؤنڈ متصل جامعہ عربیہ احسن العلوم گلشن اقبال کراچی میں ادا کی جائیگی۔