ملک بھر میں آج 9 محرم الحرام کے موقع پر مرکزی ماتمی جلوس مذہبی عقیدت اور امن و سکون کے ساتھ برآمد ہو رہے ہیں جبکہ امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ کئی شہروں میں موبائل فون سروس بند اور حساس علاقوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔
جلوس کے دوران سیکیورٹی کے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، داخلی و خارجی راستوں پر چیک پوسٹیں، واک تھرو گیٹس اور سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی کی جا رہی ہے۔
لاہور میں پانڈو اسٹریٹ سے صبح 10 بجے جلوس برآمد ہوا۔ پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق صوبے بھر میں آج 1689 جلوس اور 3895 مجالس ہو رہی ہیں، جن کی سیکیورٹی پر 1 لاکھ سے زائد اہلکار تعینات ہیں۔ صرف لاہور میں 10 ہزار پولیس اہلکار 79 جلوسوں اور 378 مجالس کی نگرانی پر مامور ہیں۔
ڈولفن اسکواڈ اور PRU ٹیموں کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ اور دیگر ایمرجنسی اداروں سے مستقل رابطے میں رہیں۔ خواتین اور بچوں کی حفاظت کو بھی سیکیورٹی پلان کا حصہ بنایا گیا ہے۔
ادھر پشاور میں سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر 9 اور 10 محرم کو موبائل فون سروس بند کر دی گئی ہے۔ شہر میں بی آر ٹی سروس بھی دو دن کے لیے معطل کر دی گئی ہے۔ حسینیہ ہال سے 9 محرم کا جلوس صبح 10 بجے برآمد ہوا، جبکہ صدر، کینٹ اور اہم بازاروں کو سیل کر دیا گیا ہے۔
پشاور میں 10 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور افغان مہاجرین کے شہر میں داخلے پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے۔ قصہ خوانی بازار، خیبر بازار، جی ٹی روڈ اور سرکلر روڈ سمیت کئی بڑی شاہراہیں بند کر دی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ملک بھر میں جلوسوں کو پرامن رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ ہیں، جبکہ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن کو دیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








