وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پوش علاقے میں ایک سنسنی خیز واقعے میں نامعلوم مسلح افراد نے معروف کاروباری شخصیت عامر اعوان کے فارم ہاؤس پر دھاوا بول دیا اور ان کی جان لے لی جس نے پورے شہر کو صدمے میں مبتلا کر دیا۔
مقتولہ کی اہلیہ کے مدعیت میں شہزاد ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ اس حوالے سے پولیس نے تحقیقات بھی شروع کردی ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق عامر اعوان اپنے فارم ہاؤس کے بیڈروم میں موجود تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔ اہل خانہ کے مطابق جب ان کی بیوی نے جاگی تو دیکھا کہ تین ڈاکو ان کے شوہر سے جھگڑ رہے تھے جبکہ دو دیگر مسلح افراد کمرے کے باہر کھڑے تھے۔ اسی دوران ملزمان نے عامر اعوان پر فائرنگ کی جس سے وہ شدید زخمی ہوئے اور بعد میں اسپتال میں دم توڑ دیا۔
شکایت کنندہ نے بتایا کہ ڈاکوؤں نے سیکیورٹی گارڈز سے بندوقیں اور موبائل فون چھین کر فرار حاصل کیا۔ اہل خانہ نے کہا کہ وہ مجرموں کی شناخت کر سکتے ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں ڈاکوؤں کو کلاشنکوف اٹھائے دیکھا جا سکتا ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ قاتل جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے جائیں گے اور تفصیلات عوام کے سامنے شیئر کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے اسلام آباد میں قتل اور ڈاکوؤں کے تمام مقدمات میں 100 فیصد ملزمان کو گرفتار کیا گیا، اور اس واقعے میں بھی شامل افراد کو پکڑا جائے گا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان فارم ہاؤس میں داخل ہونے کے لیے حفاظتی باڑ کو کاٹ کر آئے تھے اور چھاپے جاری ہیں تاکہ انہیں جلد گرفتار کیا جا سکے۔
عامر اعوان اسلام آباد کی معروف کاروباری شخصیت تھیں جنہوں نے گاڑیوں کی ڈیلرشپ اور شو روم کا کاروبار چلایا کرتے تھے خاص طور پر Toyota Motors کی اسلام آباد میں شاخ کے مالک یا انتظامی سربراہ کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ ان کا فارم ہاؤس مارگلہ ٹاؤن، شہزاد ٹاؤن کے علاقے میں واقع تھا، جو وفاقی دارالحکومت کا ایک پوش اور محفوظ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔
پولیس کے مطابق وہ اپنے فارم ہاؤس میں پرائیویٹ رہائش میں تھے جب مسلح افراد نے اندر داخل ہو کر ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے اور بعد ازاں اسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کی شناخت ایک معروف تاجر اور مقامی کاروباری شخصیت کے طور پر کی گئی ہے جن کے خاندان میں بیوی اور بچوں سمیت سیکورٹی گارڈ بھی شامل تھے۔
ان کا قتل نہ صرف کاروباری برادری میں بلکہ عام عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بھی سیکورٹی اور تحفظ کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








