مسلم خاتون کا حجاب اتروایا گیا؟ فلوٹیلا کارکنوں کی سنگین الزامات نے ہلچل مچا دی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فریڈم فوٹیلا)

اسرائیل نے مزید 29 غیر ملکی کارکنوں کو ملک بدر کردیا ہے جو غزہ کیلئے امدادی سامان لے جانے والے بحری قافلے (فلوٹیلا) کا حصہ تھے۔ یہ کارکن اسرائیلی بحریہ کے ہاتھوں گزشتہ ہفتے اس وقت گرفتار ہوئے تھے جب وہ غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق اب تک 450 سے زائد کارکنوں میں سے کم از کم 170 کو واپس ان کے ممالک بھیجا جا چکا ہے۔

یہ قافلہ اگست کے آخر میں روانہ ہوا تھا اور اس کا مقصد غزہ کے محصور عوام کے لیے امداد پہنچانا تھا تاہم اسرائیل نے اسے ایک اشتعال انگیز اقدام قرار دیا اور کہا کہ غزہ کی بحری ناکہ بندی بین الاقوامی قوانین کے تحت جائز ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم عدالہ (Adalah) جوکہ گرفتار کارکنوں کی قانونی نمائندگی کر رہی ہے نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض افراد کو دورانِ حراست جسمانی بدسلوکی، طبی سہولیات سے محرومی اور غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں ایک مسلم خاتون کا حجاب زبردستی ہٹائے جانے کا واقعہ بھی شامل ہے۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام زیرِ حراست افراد کو ان کے قانونی حقوق دیے گئے اور انہیں کھانے، پانی اور بیت الخلا تک رسائی حاصل رہی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ کسی کو وکیل سے ملنے سے نہیں روکا گیا اور نہ ہی جسمانی تشدد کیا گیا۔

یونان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ان کے 27 شہریوں سے سفارتی نمائندے نے ملاقات کی اور بتایا کہ وہ سب خیریت سے ہیں۔ جنوبی افریقی حکام نے بھی اپنے شہریوں کی خیریت کی تصدیق کی ہے۔

ادھر اسرائیلی حکام نے ایک بار پھر اس بحری قافلے کو ڈرامہ بازی قرار دیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اگر واقعی امداد پہنچانا مقصد ہوتا تو وہ اسے کسی غیر ملکی حکومت کے تعاون سے غزہ منتقل کرنے کو تیار تھا۔ اسرائیلی دعوے کے مطابق قافلے میں صرف معمولی مقدار میں امدادی سامان موجود تھا جس کی تردید فلوٹیلا کے منتظمین نے کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اب ایک نیا قافلہ جس میں 11 کشتیاں شامل ہیں، غزہ کا رخ کررہا ہے۔ ان کشتیوں میں طبی عملہ اور صحافی بھی سوار ہیں۔

Related Posts