اسلام آباد اور راولپنڈی میں تندور مالکان نے روٹی، نان، کلچہ اور پراٹھے کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ سرکاری سطح پر نرخوں کا کوئی باضابطہ تعین موجود نہیں۔ یہ اضافہ بظاہر من مانی طور پر کیا گیا ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے فی الوقت قیمتوں پر کوئی کنٹرول نافذ نہیں کیا گیا۔
نئی قیمتوں کے مطابق سادہ روٹی اب 20 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے جو پہلے 15 روپے تھی جبکہ نان کی قیمت 30 روپے کر دی گئی ہے جو پہلے 25 روپے تھی۔
اسی طرح کلچے کی قیمت 30 روپے سے بڑھ کر 40 روپے کر دی گئی ہے جبکہ پراٹھا جو عام طور پر ناشتے میں استعمال ہوتا ہے، اب 60 روپے کا مل رہا ہے جو پہلے 50 روپے میں دستیاب تھا۔
یہ اضافہ مہنگائی سے پہلے ہی دباؤ میں آئے ہوئے گھریلو بجٹ پر مزید بوجھ ڈالے گا تاہم ماہرین کے مطابق اس کا براہِ راست تعلق گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بھی ہے۔
رپورٹس کے مطابق رواں سال کے آغاز میں ٹاپ لائن سیکورٹیز نے بتایا تھا کہ گندم کی قیمتیں 19 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں جو 710 روپے فی 10 کلوگرام یا 2839 روپے فی 40 کلوگرام تک جا پہنچی ہیں، جبکہ کچھ منڈیوں میں یہ نرخ 3050 روپے فی 40 کلوگرام تک بھی ریکارڈ کیے گئے۔
اگرچہ یہ اضافہ صارفین کے لیے تشویشناک ہے لیکن اس نے ربیع سیزن کے لیے تیار ہونے والے کسانوں کو کچھ ریلیف فراہم کیا ہے۔
گزشتہ سال گندم کی پیداوار میں 8اعشاریہ 9 فیصد اور مجموعی بڑی فصلوں میں 13اعشاریہ5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں متعدد کسانوں کو فی ایکڑ اوسطاً 10 ہزار روپے سے زائد نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ان نقصانات کی بنیادی وجوہات میں انتہائی موسمی حالات، پانی کی قلت اور زرعی لاگت میں اضافہ شامل تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








