کراچی : قومی ادارہ برائے امراض قلب این آئی سی وی ڈی میں کرپشن کی تحقیقات میں نیب کی پیش رفت،نیب نے ادارہ قلب کے 5 افسران کو ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔
قومی ادارہ قلب کے چیف آپریٹنگ افسر ہیومن ریسورسزاور چیف آپریٹنگ افسر سمیت 26 افسران کا مکمل ریکارڈ بھی مانگ لیا ہے۔
اس سے قبل وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے بدانتظامی اور اختیارات کے ناجائز استعمال اور فنڈز میں بے ضابطگیوں سے متعلق اپنا بیان قلمبند کرنے کے لئے این آئی سی وی ڈی انتظامیہ کو بھی خط لکھا ہے اور متعلقہ حکام سے چھ سوالات کے جوابات دینے کو کہا ہے۔ جبکہ ملزموں کو تنخواہوں اور بھرتی کی تفصیلات سے متعلق بھی آٹھ سوالات پر مشتمل ایک سوال نامہ سونپ دیا گیا ہے۔
نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی افسران 8 سوالات کی روشنی میں فنڈز کے مبینہ غبن کی تحقیقات جاری رکھیں گے جس کا مقصد تعلیمی اور پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹ کے ساتھ ساتھ تنخواہوں کی تفصیلات حاصل کرنا ہے۔
حیدر اعوان اور داور حسین سمیت انسٹیٹیوٹ کے سینئر افسران سے بھی اپنا بیان پیش کرنے کو کہا گیا۔ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 16 نومبر تک نیب کراچی کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو ریکارڈ پیش کریں۔
ذرائع کے مطابق حیدر اعوان این آئی سی وی ڈی سے ایک لاکھ 80 ہزار روپے تنخواہ لے رہے ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ حیدر اعوان پر بھی ایک ماضی کے ملازم ہونے اور کسی سیاسی پارٹی کی نمایاں شخصیت کے فرنٹ مین کے طور پر کام کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔
نیب کے مطابق ہمیں مختلف تقرریوں، زائد تنخواہوں اور دیگر کئی امور میں بدعنوانی کے الزامات کے بارے میں متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں اور سرکاری ریکارڈ مہیا کرنے کے لئے این آئی سی وی ڈی کے عدم تعاون کی وجہ سے نیب کی ٹیم نے عہدیدار کو وصول کرنے کے لئے این آئی سی وی ڈی کراچی کا دورہ کیا۔
نیب حکام کا کہنا ہے کہ قومی ادارہ امراض قلب میں اقربا پروری اور سیاسی کارکنوں کو نوازنے کے عنصر کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے ،جلد تحقیقات مکمل کر کے ذمہ داروں کا کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔