کراچی کے اہم اور مصروف علاقے میں واقع ناتھا خان پل کو انجینئرنگ رپورٹس اور مسلسل معائنے کے بعد شہری انتظامیہ نے ناقابلِ استعمال قرار دے دیا ہے۔
اس فیصلے کی بڑی وجہ پل کی خستہ حالی اور اس میں آنے والی دراڑیں ہیں، جن کے باعث کسی بھی وقت بڑا حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پل کے انیس بیمز سے لوہا چوری ہو چکا ہے جس نے اس کی مضبوطی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پل پر حالیہ شگاف کو عارضی طور پر پچیس دن کے اندر درست کرنے کی کوشش کی جائے گی تاہم یہ خطرہ بدستور موجود رہے گا کہ کسی بھی وقت نئی دراڑیں ظاہر ہوسکتی ہیں۔
اس صورتحال نے شہریوں کو شدید بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ یہ پل روزانہ ہزاروں گاڑیوں کو ایئرپورٹ، شاہراہِ فیصل اور شہر کے دیگر مرکزی علاقوں سے جوڑتا ہے۔
ٹریفک پولیس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اگلے ایک ماہ تک ٹریفک جام کی صورتحال معمول سے کہیں زیادہ سنگین ہوگی۔ اسی وجہ سے متبادل راستے تجویز کرنے کا عمل جاری ہے۔
شہری انتظامیہ نے عندیہ دیا ہے کہ جیسے ہی عارضی راستہ مکمل ہوگا، ناتھا خان پل کو مکمل طور پر گرا کر دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر یہ منصوبہ شروع کرنا چاہیے تاکہ عوام کو روزانہ کے ٹریفک عذاب سے نجات مل سکے۔
ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اس پل کو جلد از جلد دوبارہ تعمیر نہ کیا گیا تو شہر کو سنگین ٹریفک مسائل اور حادثات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








