جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں ڈیوٹی کے دوران پاک فوج کے جواں سال افسر کیپٹن تیمور نے جامِ شہادت نوش کیا۔ وہ چکوال کے رہائشی اور بریگیڈیئر راجہ حسن عباس کے اکلوتے صاحبزادے تھے۔
بریگیڈئر حسن نے بہت مشکل اپنے آنسو روکے ہوئے ہیں ۔ بیشک جوان اولاد کو مٹی کے حوالے کرنا والدین کے آسان نہیں ہوتا۔ اللہ پاک کیپٹن حسن کو جنت نصیب کریں۔ pic.twitter.com/EWH1myG4XZ
— Sardar Hamza Zahid (@bismilhamza) August 27, 2025
کیپٹن تیمور کی شادی محض دو روز بعد طے تھی، مگر خوشیوں کی مہندی اور بارات کی تیاریاں ایک دم سوگ میں بدل گئیں۔
بریگیڈیئر راجہ حسن عباس، جنہیں اپنے اکلوتے بیٹے کو دلہن کے گھر لے کر جانا تھا،وطن کی مٹی کے حوالے کر کے شہید کا باپ بن گئے۔
وہ بیغیرت بھی دیکھ لیں جو کہتے ہیں کہ جرنل برگیڈیر کے بچے شہید نہیں ہوتے 👇
یہ بریگیڈیئر حسن ہیں جو اپنے اکلوتے بیٹے کو جسکی دو دن بعد شادی تھی آخری دعا کے ساتھ رخصت کر رہے ہیں pic.twitter.com/zZEHZSMRil— Ch Mudasir 🇵🇰 (@ij422) August 27, 2025
ان کی آنکھوں میں تیرتا دکھ اور دل میں دفن درد الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا۔ شادی کے نغمے اور خوشیوں کی گہماگہمی شہادت کے نوحوں میں ڈھل گئی۔
بریگیڈیئر راجہ حسن عباس نے بیٹے کے جنازے پر کہاکہ اگر میرے دس بیٹے بھی ہوتے تو سب وطن پر قربان کر دیتا۔ یہ وہ جذبہ ہے جس پر قوم کو فخر ہے، اور جو اس بات کی گواہی ہے کہ شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
“10 بیٹے بھی ہوتے تو فوج میں بھیج دیتا” — شہید کیپٹن تیمور حسن کے والد برگیڈیئر حسن عباس
”Even If I Had 10 Sons, I Would Send Them to the Army” — Brigadier Hassan Abbas, Father of Martyred Captain Taimoor Hassan | Discover Pakistan#BrigHassanAbbas #CaptTaimurHassan #Shaheed pic.twitter.com/hXJfbvIq59— Discover Pakistan TV (@DiscoverpakTv) August 27, 2025
کیپٹن تیمور کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے سپوت اپنی ذاتی خوشیاں، خواب اور زندگی کے سب سے حسین لمحے قربان کر کے بھی وطن کے پرچم کو سربلند کرتے ہیں۔
شہداء امر ہیں، ان کی قربانیاں آنے والی نسلوں کو ہمیشہ یاد دلاتی رہیں گی کہ یہ ملک کیسے قائم اور محفوظ ہے۔اللہ تعالیٰ شہید کیپٹن تیمور کے درجات بلند فرمائے اور والدین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








