اسلام آباد: قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس آج چیئرمین معین وٹو کی زیرِ صدارت ہوا جس میں ملک بھر میں سیلاب کے باعث ریلوے کی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ریلوے کے اجلاس میں چیئرمین سمیت دیگر اراکین نے اہم گفتگو کی۔ سی ای او ریلوے نے کہا کہ سیلاب کے باعث سندھ میں بے تحاشہ نقصان ہوا۔ بلوچستان کا بہت سا پانی سندھ میں داخل ہوتا ہے۔
کراچی، 2023 کے آخر میں کچرے سے بجلی پیدا ہوگی
چیئرمین کمیٹی معین وٹو نے کہا کہ بارش کے باعث ریلوے ٹریکس ڈوبنے کی بہت شکایت ملی۔ لوگوں کو آمدورفت میں بہت سے مسائل تھے۔ ریلوے بھی خسارے میں ہے۔ ممبر کمیٹی پیر فضل علی شاہ نے کہا کہ آفات مستقبل میں بھی آسکتی ہیں۔
ممبر کمیٹی پیر فضل شاہ نے مزید کہا کہ موہنجو ڈارو والی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی۔ شہر ڈوبا ہوا ہے، موہنجو ڈارو خالی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہر 300 کلومیٹر پر ڈاؤن اسٹریم پر جھیلیں بنی ہوئی ہیں۔ سیلاب کا پانی جھیلوں میں جمع ہوتا ہے۔
کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ چین کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں جو فیصلہ ایک بار ہوجائے تو واپس نہیں ہوتا۔ ممبر کمیٹی علی ملک نے شکایت کی کہ سیلابی آفت پر ہم نے مدد کا وہ جذبہ نہیں دیکھا۔ ممبر کمیٹی رمیش لال کا کہنا تھا کہ منسٹر صاحب کو بھی کمیٹی میں آنا ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








