لاہور: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے معروف فیشن ڈیزائنر ماریا بی کو طلب کر لیا ہے، یہ کارروائی ایک ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے رکن کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت پر کی گئی جس میں ماریا بی پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر ایک غیر اخلاقی پارٹی کی ویڈیوز جان بوجھ کر سوشل میڈیا پر پھیلائیں۔
ایجنسی کے مطابق ماریا بی کو 26 اگست کو طلب کیا گیا ہے تاکہ وہ اس معاملے پر اپنا مؤقف پیش کر سکیں۔ شکایت کنندہ، خواجہ سرا کارکن نعیم بٹ المعروف سیما بٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ فیشن ڈیزائنر کی جانب سے ویڈیوز پھیلانا ہراسانی، بدنامی اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔
یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ ماریا بی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ غیر اخلاقی سرگرمیوں کو بے نقاب کر رہی ہیں جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ انہوں نے ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو بلاوجہ نشانہ بنایا ہے۔
گزشتہ ہفتے ماریا بی نے انسٹاگرام پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ لاہور میں غیر اخلاقی سرگرمیاں جاری ہیں جنہیں انہوں نے شیطانی عمل قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسی تقاریب نوجوانوں کی تباہی، خاندانی نظام اور اخلاقی اقدار کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔ انہوں نے حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے واقعات کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کر رہے۔
ماریا بی نے اپنے بیانات میں اس معاملے کو وسیع تر ثقافتی اور سیاسی پس منظر سے بھی جوڑا۔ انہوں نے فلم جوائے لینڈ کے تنازعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی اثرات پاکستانی معاشرتی اقدار کو متاثر کر رہے ہیں۔
ساتھ ہی انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ اقوام متحدہ میں اسرائیل نے پاکستان کو ہم جنس پرستی کے قوانین ختم کرنے کی سفارش کی تھی۔
ان بیانات کے بعد آن لائن شدید ردعمل سامنے آیا۔ کچھ افراد نے ماریا بی کی حمایت کرتے ہوئے انہیں ثقافتی و مذہبی اقدار کا دفاع کرنے والی شخصیت قرار دیا، جبکہ دوسروں نے الزام عائد کیا کہ وہ خوف پھیلا کر ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو بدنام کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، یہ معاملہ پاکستان میں اظہار رائے، مذہبی اقدار، اور خواجہ سرا کمیونٹی کے حقوق کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے جس نے ایک بار پھر معاشرتی تقسیم کو نمایاں کر دیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








