بنوں سے تعلق رکھنے والا ایک ابھرتا ہوا انوجوان یتھلیٹ صوبائی سطح کے مقابلوں کے دوران ناقص انتظامات کے باعث شدید زخمی ہو گیا جس پر صوبائی سپورٹس حکام کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ طالب علم ہائی جمپ کے مقابلے میں حصہ لے رہا تھا تاہم مقابلے کے دوران بین الاقوامی معیار کے حفاظتی گدوں (لینڈنگ میٹس) کی عدم فراہمی کے باعث وہ زمین پر گر گیا جس سے اس کی کمر میں شدید چوٹ آئی۔زخمی کھلاڑی کو فوری طور پر طبی سہولیات فراہم نہ کیے جانے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی حلقوں میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے شہریوں، اساتذہ اور کھیلوں سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ صوبائی اسپورٹس انتظامیہ کی غفلت اور ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق صوبائی سطح کے مقابلے میں ہائی جمپ جیسے حساس ایونٹ کے لیے مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونا کھلاڑیوں کی جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کھیلوں کے نام پر مختص فنڈز کہاں خرچ کیے جا رہے ہیں اور کیوں بنیادی حفاظتی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں۔
متاثرہ کھلاڑی کو بعد ازاں اسپتال منتقل کیا گیا تاہم عینی شاہدین کے مطابق ابتدائی طبی امداد اور فوری ریسکیو کے انتظامات ناکافی تھے۔ اس صورتحال نے پشاور اور صوبائی سپورٹس انتظامیہ کی ذمہ داریوں پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے ہیں۔
عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف انکوائری کی جائے ذمہ داران کا تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور آئندہ مقابلوں میں کھلاڑیوں کی جان و سلامتی کو اولین ترجیح بنایا جائے تاکہ کسی اور نوجوان کا مستقبل ایسے حادثات کی نذر نہ ہو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








