نیٹ فلکس کی نئی ڈارک کامیڈی منی سیریز “Sirens” نے دیکھنے والوں کی توجہ حاصل کرلی ہے، جو بظاہر دولت، اسراف اور پراسرار زندگی کے گرد گھومتی ہے، مگر درحقیقت اس میں گہرے خاندانی مسائل اور جذباتی زخموں کی کہانی چھپی ہے۔
Julianne Moore نے اس سیریز میں Michaela کا کردار ادا کیا ہے، جو ایک ذاتی جزیرے پر اپنی معاون Simone (اداکارہ Milly Alcock) کے ساتھ ایک پرتعیش اور محدود زندگی گزار رہی ہوتی ہیں۔ Simone نے اپنی ماضی کی زندگی کو چھوڑ کر ایک نئی شناخت اختیار کر لی ہے، مگر جب اس کی بہن Devon (اداکارہ Meghann Fahy) اچانک خبر لے کر پہنچتی ہے کہ ان کے والد جو الزائمر کا شکار ہیں — کو مدد کی ضرورت ہے، تو صورت حال بگڑنے لگتی ہے۔
Devon، جو خود زندگی کے کئی سخت مراحل سے گزر چکی ہے اور ماضی میں جیل بھی کاٹ چکی ہے، Simone کی اس دنیا میں حیرت زدہ ہو جاتی ہے۔ اسے شک ہوتا ہے کہ اس کی بہن ایک پراسرار کلٹ کا حصہ بن چکی ہے، جس کی قیادت خود Michaela کر رہی ہیں۔
Michaela اپنے اردگرد کے عملے پر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں، ان سے خفیہ معاہدے کرواتی ہیں، اور ایک فلاحی تقریب کی تیاری میں مصروف رہتی ہیں، وہ بھی پرندوں کے لیے۔ جزیرے کا نظم و نسق ایک جدید ٹیکنالوجی سے لیس ڈیجیٹل اسسٹنٹ Zeus چلا رہا ہے، جب کہ Michaela کا شوہر Pete (اداکار Kevin Bacon) پردے کے پیچھے خاموشی سے موجود ہے۔
جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے، ہم بہنوں کی ماضی کی زندگی میں جھانک پاتے ہیں: غربت، ٹوٹا ہوا بچپن، اور ایک ایسی دنیا سے فرار جہاں درد ہی سب کچھ تھا۔
“Sirens” کی ابتدا ایک طنزیہ اور عجیب سی دنیا سے ہوتی ہے، مگر جیسے جیسے کرداروں کی گہرائی سامنے آتی ہے، سیریز ایک سنجیدہ اور جذباتی سفر بن جاتی ہے۔ یہ کہانی صرف امیروں کی عیاشی یا خفیہ گروہوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں خاندانی رشتوں، تکلیف دہ یادوں اور طبقاتی فرق جیسے موضوعات کو بھی باریکی سے چھوا گیا ہے۔
سیریز کی تخلیق کار Molly Smith Metzler نے “Sirens” کو ایک ایسی کہانی میں ڈھالا ہے جو بظاہر اسراف اور اسرار کے ماحول میں لپٹی ہے، لیکن اس کی اصل روح انسانوں کی بقا اور رشتوں کے نازک بندھن میں چھپی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








