سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات پر جلد فیصلوں کیلئے نئے قوانین بننے چاہئیں، وزیر داخلہ

تازہ ترین

تازہ ترین

سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات پر جلد فیصلوں کیلئے نئے قوانین بننے چاہئیں، وزیر داخلہ
سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات پر جلد فیصلوں کیلئے نئے قوانین بننے چاہئیں، وزیر داخلہ

اسلام آباد:وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ23مارچ کو بعض راستے بند ہوتے ہیں، پی ڈی ایم رہنما لانگ مارچ کی تاریخ پر نظر ثانی کریں،اپوزیشن نے 4 ماہ کا وقت دیا ہے اس دوران پنجاب میں بلدیاتی انتخابات بھی ہوں گے۔اس وقت تک وزیراعظم عمران خان مہنگائی کو قابو کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان 5 سال پورے کریں گے اور پاکستان میں جمہوری عمل آگے بڑھے گا،سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات پر جلد فیصلوں کیلئے نئے قوانین بننے چاہئیں، میڈیا انتہاپسندوں کے بیانیے کو کوریج نہ دے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سیالکوٹ میں دل دہلا دینے والا واقعہ ہوا، میں نے سری لنکن ہائی کمشنر کو یقین دلایا ہے کہ مجرمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ سیالکوٹ واقعے اور ملک کی امن و امان کی صورتحال پر عسکری اور سول قیادت کے اجلاس میں غور و فکر کیا گیا اور کہا گیا کہ قانون پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔

شیخ رشید احمد نے سیالکوٹ کے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے تناظر میں کہا ہے کہ وزارت قانون سے ایسے قوانین آنے چاہئیں کہ اس طرح کے مقدمات کے فیصلے جلد از جلد ہوں۔

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے لانگ مارچ کی کال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلا ملک ہے جہاں اپوزیشن نے 4 ماہ پہلے لانگ مارچ کی کال دی اور یومِ پاکستان پر دی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ میں مولانا فضل الرحمن اور شہباز شریف سے کہنا چاہتا ہوں کہ 23 مارچ افواجِ پاکستان کا عالمی سطح پر منایا جانے والا دن ہے جس میں ساری قوم شریک ہوتی ہے اور اس سے ایک کروڑ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے جذبات بھی وابستہ ہیں۔

انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ 15 روز پہلے کرلیں یا 7 روز بعد کرلیں کیوں کہ یومِ پاکستان کی پریڈ کے لیے تمام سامان حرب بذریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد پہنچتا ہے اور زیادہ تر کور ہیڈ کوارٹرز بھی جی ٹی روڈ پر ہیں۔ اس دوران اسلام آباد کے بعض راستے بند کردیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پھر اپوزیشن یہ اعتراض نہ کرے کہ ہمارے راستے بند کردیے گئے، میں 3 ماہ بعد اس پر بات کروں گا تا کہ اس کا حل نکالا جائے لیکن اپوزیشن کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہوں کہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے ساڑھے 3 سال بعد تاریخ دینے کا فیصلہ کیا اور وہ بھی غلط کیا، این اے-133 کے انتخابات میں دیکھ لیا شائستہ ملک نے صرف 10 فیصد ووٹس حاصل کیے ہیں، عوام کی سوچ میں فرق ہے۔ انہوں نے آپ کے مرغ پلاؤ کی جانب توجہ بھی نہیں دی۔

مزید پڑھیں: سانحہ سیالکوٹ کے مرکزی ملزمان گرفتار ہوچکے ، فواد چوہدری کی سری لنکا کے سفیر کو یقین دہانی

وزیر داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن نے 4 ماہ کا وقت دیا ہے اس دوران پنجاب میں بلدیاتی انتخابات بھی ہوں گے لہٰذا اپنے طریقہ کار پر نظرِ ثانی کریں۔شیخ رشید نے کہا کہ ہم سختی سے نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔

Related Posts