دُنیا بھر میں تباہی پھیلانے والے کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ایک نیا ماسک تیار کیا گیا ہے جو استعمال کیے جانے کے بعد پھینکنے کی بجائے مٹی میں دبانا مفید ثابت ہوتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے پھول اگنے لگتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی مصور ماریانہ ڈی گروٹ پونز نے ایک ایسا فیس ماسک تیار کیا ہے کہ جو زمین میں دبانے کے بعد خود کو ختم کر لیتا ہے تاہم ماسک کے میٹرئیل میں نفاست سے چھپائے گئے پھولوں کے بیج مٹی میں دفن ہو کر پھول اگانے کا سبب بن جاتے ہیں۔
پھول اگانے کیلئے مناسب ماحول، مٹی اور پانی کی فراہمی ضروری ہے جبکہ ماریانہ اپنی پینٹنگ میں بھی ماحول دوستی کیلئے مشہور ہیں۔ ماریانہ کا تیار کیا گیا نیا ماسک مکمل طور پر بائیو ڈیگریڈیبل قرار دیا گیا ہے۔ ماسک کی تہہ میں پھولوں کے باریک بیج جمع کردئیے گئے ہیں جبکہ پھولوں سے ماحول پر خوشنما اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
خصوصی ماسک کی ڈوری پلاسٹک کی بجائے بھیڑ کی اون اور ماسک پر لگائی گئی روشنائی بھی ماحول دوست میٹرئیل سے تیار کی گئی ہے۔ ماسک کا نام میری بی بلوم رکھا گیا ہے جو ہالینڈ اور جرمنی سے خریدا جاسکتا ہے۔ کورونا وائرس سے نبردآزما دنیا کیلئے ماحول دوست ماسک ایک خوبصورت تحفہ قرار دیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹوئٹر صارفین کیلئے خوشخبری، ٹویٹ ارسال کرنے کے بعد روکنے کی آزمائش شروع
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








