بلوچستان کے شمالی علاقے ژوب میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے لاہور جانے والی مسافر بس کو روک کر نو افراد کو اغوا کیا اور بعد ازاں انہیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق حملہ آوروں نے مخصوص افراد کی شناخت کے بعد انہیں بس سے اتارا اور جنگل کی طرف لے جا کر فائرنگ کر دی۔ لاشیں بعد میں بارکھان کے رکنی اسپتال منتقل کی گئیں۔
اس واقعے کو بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے کھلی دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ حملہ آوروں کا تعلق فتنہ الہندوستان نامی دہشت گرد نیٹ ورک سے تھا جو بھارت کے اشارے پر پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ دہشت گردوں نے مسافروں کو ان کی پاکستانی شناخت کی بنیاد پر قتل کیا، جو کہ ایک ناقابل معافی جرم ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست کے خلاف اعلانِ جنگ ہے اور پاکستان دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت تمام دہشت گرد نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی اور اس مقصد کے لیے مکمل طاقت، عزم اور اتحاد کے ساتھ کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق اس بزدلانہ حملے کا جواب سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔
ترجمان شاہد رند نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ کسی ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ ایک سلسلے کا حصہ ہے جس میں بھارت کی پشت پناہی سے پاکستان کے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی روز مستونگ، قلات اور سرہ ڈگئی میں بھی دہشت گرد حملے ہوئے جنہیں سیکورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں سیکورٹی ایس او پیز پہلے ہی نافذ تھے جن کے تحت رات کے وقت این 70 شاہراہ پر بسوں کی آمد و رفت پر پابندی تھی تاہم متاثرہ بس تمام ضابطوں کی پیروی کرتے ہوئے غروبِ آفتاب کے وقت روانہ ہوئی تھی۔
ترجمان کے مطابق واقعے سے قبل دہشت گردی کے ممکنہ خطرے کی اطلاع موجود تھی جس کے بعد قلات اور مستونگ میں سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی اور مسافر ٹرینوں کی آمد و رفت بھی روک دی گئی تھی مگر ژوب کے مقام پر کسی قسم کا خاص الرٹ جاری نہیں ہوا تھا۔
حکومت اس واقعے کے محرکات اور سیکورٹی میں ممکنہ خامیوں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
ترجمان نے ایک اور واقعے کا بھی ذکر کیا جس میں لورالائی کے قریب مسافروں کے اغوا کی اطلاع ملی ہے۔ اس سلسلے میں ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ مغوی افراد کو بحفاظت بازیاب کروایا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق بلوچستان میں بھارتی پشت پناہی سے سرگرم دہشت گرد گروہ خاص طور پر اس وقت فعال ہو گئے ہیں جب پاکستان نے حالیہ جنگ میں کامیابی حاصل کی۔
پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے بھی اس موقع پر اعلان کیا ہے کہ ایسے تمام بھارتی حمایت یافتہ نیٹ ورکس کے خلاف ہر سطح پر فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








