اسلام آباد: وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے منگل کو عوام سے کہا کہ وہ عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے لیے روڈ بلاک اور بدامنی پھیلانے سے گریز کریں۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی کو سڑکیں بلاک کرنے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرپسندوں سے اس کے مطابق نمٹا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اپنی حکومت کے دور میں 60 ارب روپے کے سرکاری فنڈز میں خورد برد میں مدد کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ گرفتاری القادر ٹرسٹ کیس میں کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق پراپرٹی ٹائیکون کے ذریعے بڑی رقم غیر قانونی طور پر برطانیہ منتقل کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ رقم پاکستان کی تھی اور برطانیہ اسے واپس کرنا چاہتا تھا لیکن پھر شہزاد اکبر (وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ اور احتساب) نے اس لین دین میں حصہ لیا اور تقریباً 60 ارب روپے کا غلط استعمال کیا گیا۔
ان کے مطابق عمران اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے فنڈز سے جائیداد خریدی اور شہزاد اکبر کو بھی حصہ ملا۔ مزید یہ کہ یہ رقم اسی پراپرٹی ٹائیکون کے خلاف کیس میں ایڈجسٹ کی گئی تھی۔
کیس کی تفصیلات کے مطابق ہاؤسنگ سوسائٹی کی جانب سے 530 ملین روپے مالیت کی 458 کنال اراضی بھی القادر ٹرسٹ کو منتقل کی گئی جس کے ٹرسٹی عمران خان اور ان کی شریک حیات ہیں۔
معاہدے پر رئیل اسٹیٹ ڈویلپر کے ڈونرز کے ساتھ ساتھ بشریٰ بی بی کے دستخط بھی تھے۔ مزید 240 کنال زمین بشریٰ بی بی کی دوست فرح گوگی کو منتقل کی گئی۔
مزید پڑھیں:القادر ٹرسٹ کیس کیا ہے جس کے باعث عمران خان گرفتاری عمل میں آئی؟
وزیر داخلہ نے کہاکہ، ”پہلے میں نے عمران کو چیلنج کیا تھا کہ وہ اس کیس میں اپنی بے گناہی ثابت کریں اور آج میں انہیں دوبارہ چیلنج کرتا ہوں کہ وہ ایسا کریں۔”
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








