بجلی پر اب کوئی ریلیف نہیں ملے گا کیونکہ، آئی ایم ایف نے قرض کے ساتھ کونسی کڑ ی شرائط رکھ دیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

NEPRA approves electricity tariff reduction
ONLINE / FILE PHOTO

اسلام آباد: پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی پہلی قسط جاری کرنے کے بعد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سخت شرائط سامنے آگئی ہیں۔

وزارت خزانہ کے ذرائع نے انکشاف کیا کہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ فارمولے کا جائزہ لے گا جب کہ آئی ایم ایف صوبائی حکومت کے اخراجات کی کڑی نگرانی کرے گا۔

حکومتی اصلاحات کا مقصد بجلی کی قیمتوں میں کمی کرنا ہے اور توانائی کے شعبے کے لیے ایک جامع پیکیج بھی پروگرام کا حصہ ہیں جب کہ توانائی کے شعبے کے اندر بجلی کی خریداری کے معاہدوں کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا۔

آئی ایم ایف نے حکومت کو مستقبل میں بجلی کی قیمتوں میں ریلیف دینے سے روک دیا، جیسا کہ پنجاب حکومت کے معاملے میں دیکھا گیا ہے۔

ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ حالیہ شرائط کے تحت آئی ایم ایف حکومت کی جانب سے غذائی اجناس کی امدادی قیمتیں مقرر کرنے میں ناکامی اور وفاقی حکومت کے ڈھانچے میں کمی کو بھی محدود کرتا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق توانائی کے شعبے کو دی جانے والی سبسڈی جی ڈی پی کے ایک فیصد تک محدود ہو گی اور آئی ایم ایف پروگرام کے دوران کوئی سپلیمنٹری گرانٹ جاری نہیں کی جائے گی۔

ٹیکس اصلاحات ایک اور اہم شرط ہے، جس میں زرعی، جائیداد اور خوردہ شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا منصوبہ ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری دے دی، قرضہ پروگرام 37 ماہ پر محیط ہوگا، جس کی پہلی قسط 30 ستمبر تک متوقع ہے، جس سے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ سے نجات مل جائے گی۔

Related Posts